سرینگر، ۲۱ مئی: عقاب نیوز ڈیسک/وادی کشمیر کے بالائی علاقوں بشمول بانڈی پورہ کے دور افتادہ علاقے تولیل، دراس اور زوجیلا میں جمعرات کے روز تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ میدانی علاقوں میں درمیانی سے تیز رفتار بارشوں نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے۔ اس غیر موسمی برف باری اور بارشوں کے نتیجے میں نہ صرف درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ کئی مقامات پر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی لوگوں نے مئی کے دوسرے دوسرے پندرہواڑے میں اس طرح کی برف باری کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے حیرانی کا اظہار کیا ہے۔
وادی کے مختلف اضلاع بالخصوص سرینگر، بانڈی پورہ، گاندربل، بارہمولہ اور کپواڑہ میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے کئی مقامات پر پانی جمع ہو گیا اور آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ بانڈی پورہ میں سری نگر-بانڈی پورہ شاہراہ پر دارالعلوم رحیمیہ کے قریب بارش کا پانی اور کیچڑ رہائشی بستیوں میں داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں نسو گاؤں میں نذیر احمد ڈار اور ریاض احمد ڈار کے مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے میں ایک کمسن بچی سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی باشندوں نے حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نکاسی آب کے ناقص نظام اور نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری معاوضے اور حفاظتی کاموں کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں اور تحصیلدار بانڈی پورہ نے خود صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جموں و کشمیر میں سنیچر تک موسم کی یہی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وقفے وقفے سے بارشوں کے ساتھ ساتھ کچھ مقامات پر تیز ہوائیں، بجلی گرنے اور ژالہ باری کے امکانات بھی موجود ہیں۔ انتظامیہ نے ندی نالوں کے قریب رہنے والے اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی واقعے سے بچا جا سکے۔
0
