0

آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس

تہران، 22 مئی (یو این آئی) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔
الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اہم سمندری گزرگاہ پر کنٹرول مضبوط کرلیا ہے جبکہ ایرانی اجازت کے بغیر بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رُک چکی ہے۔ جنگ سے پہلے جہاں روزانہ 120 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، جن میں تقریباً 20 ملین بیرل تیل لے جانے والے ٹینکرز بھی شامل تھے، اب وہاں صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جنہوں نے ایران سے خصوصی اجازت حاصل کی ہو۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے حال ہی میں ‘خلیجِ فارس آبنائے اتھارٹی’ قائم کی ہے جو جہازوں کی نقل و حرکت اور ٹرانزٹ فیس کی نگرانی کر رہی ہے۔ الجزیرہ نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران بعض جہازوں سے گزرنے کے لیے 2 ملین ڈالر تک بھی وصول کر رہا ہے۔ رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش عالمی معیشت کو روزانہ تقریباً 122 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے جس میں تیل اور ایل این جی کی تجارت متاثر ہو رہی ہے، اسی وجہ سے کئی شپنگ کمپنیاں ایران کو فیس ادا کرنا معاشی طور پر بہتر سمجھ رہی ہیں۔
ایرانی نژاد ماہرِ معاشیات نادر حبیبی کے مطابق بندرگاہ پر کھڑا ایک آئل ٹینکر روزانہ بھاری مالی نقصان اٹھاتا ہے، اس لیے ایران کو ادائیگی نسبتاً سستا حل بن سکتا ہے تاہم اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ سیاست اور امریکی پابندیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی سمندری گزرگاہوں پر براہِ راست ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا لیکن سیکیورٹی، نگرانی اور بحری خدمات کے نام پر فیس لی جا سکتی ہے، ایران اسی قانونی پہلو کو بنیاد بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک خصوصاً ایران، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات، مستقبل میں مشترکہ بحری نظام بنا سکتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور مستقل تجارتی راستہ برقرار رکھا جا سکے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے سب سے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس تجارت کی تقریباً 20 فیصد ترسیل گزرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں