واشنگٹن ڈی سی۔ 18؍ مئی۔ ایم این این۔ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اپنی ریاستی طاقت اور صنعتی پالیسی کے ذریعے عالمی سپلائی چین پر اپنی بالادستی کو مزید مستحکم کر رہا ہے، جس سے دنیا کی معیشت چینی پیداوار اور سپلائی نیٹ ورکس پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہے۔ امریکی چیمبر آف کامرس کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز اور صاف توانائی جیسے مخصوص شعبوں تک محدود رہنے کے بجائے اپنی صنعتی حکمت عملی کو معیشت کے تقریباً ہر حصے تک پھیلا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین داخلی اور خارجی دباؤ کے باوجود ریاستی مداخلت میں کمی کے بجائے اسے مزید وسعت دے رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمت عملی چین کی عالمی مینوفیکچرنگ میں پوزیشن کو مضبوط بنا رہی ہے اور غیر ملکی ممالک کے لیے چینی سپلائی چینز پر انحصار بڑھا رہی ہے۔ بیجنگ اب صرف نئی صنعتوں ہی نہیں بلکہ روایتی شعبوں، اہم معدنیات، صنعتی مشینری، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور مستقبل کے توانائی نظاموں میں بھی بھرپور سرکاری معاونت فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کا مینوفیکچرنگ تجارتی سرپلس 2019 کے بعد تقریباً دوگنا ہو کر 2 کھرب امریکی ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ 2021 سے 2024 کے درمیان ایسی مصنوعات کی تعداد بھی تقریباً دوگنی ہو گئی جن میں چین عالمی برآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی مسابقت طویل مدت میں متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2030 تک جی 7 ممالک کی مینوفیکچرنگ برآمدات کا تقریباً 650 ارب ڈالر حصہ چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی حصے داری کے باعث دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین سرکاری اداروں، عوامی خریداری اور ریاستی سرمایہ کاری کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز کے لیے بڑے پیمانے پر طلب پیدا کر رہا ہے، جس سے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں اس کی برتری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق عالمی معیشت میں سپلائی چین اب صرف تجارتی نیٹ ورک نہیں رہے بلکہ جغرافیائی سیاست اور قومی طاقت کے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔
0
