0

فیفا ورلڈ کپ 2026: کیا موسمیاتی تبدیلی دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال میلے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے؟

دنیا بھر میں فٹ بال کے شائقین ہر چار سال بعد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک عالمی تہوار ہوتا ہے، جس میں قومیں، ثقافتیں اور جذبات ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ تاہم 2026 میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والا فیفا ورلڈ کپ ایک ایسے خطرے کی زد میں دکھائی دے رہا ہے جو کسی جنگ، دہشت گردی یا سیاسی بحران سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی سے جڑا ہوا ہے۔
سائنسدانوں اور ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران کئی میچ ایسے حالات میں کھیلے جا سکتے ہیں جہاں درجہ حرارت انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بلکہ شائقین، منتظمین اور کھیل کے مستقبل سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی نے دنیا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ کہیں سیلاب، کہیں خشک سالی، کہیں جنگلات کی آگ اور کہیں شدید گرمی نے انسانی زندگی کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ کھیلوں کی دنیا بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔
اولمپکس، کرکٹ، ٹینس اور میراتھن جیسے عالمی مقابلوں میں شدید گرمی کے باعث کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کئی میچز منسوخ یا مؤخر بھی کیے گئے۔ اب یہی خطرہ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ٹورنامنٹ کے سامنے کھڑا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، جس میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی اور 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ان میچز کا انعقاد جون اور جولائی میں ہوگا، جب شمالی امریکہ کے کئی شہروں میں گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔
سائنسداں صرف“گرمی”کی بات نہیں کر رہے بلکہ“ویٹ بلب گلوب ٹیمپریچر”یعنی WBGT نامی پیمانے کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ پیمانہ صرف درجہ حرارت نہیں بلکہ نمی، سورج کی شدت اور ہوا کے دباؤ کو بھی شامل کرتا ہے تاکہ انسانی جسم پر مجموعی اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اگر WBGT ایک خاص حد سے تجاوز کر جائے تو جسم اپنا درجہ حرارت متوازن رکھنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔ اس سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس کی مشکلات اور بعض اوقات موت تک واقع ہو سکتی ہے۔
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن نامی تحقیقی ادارے کے مطابق ورلڈ کپ کے تقریباً ایک چوتھائی میچز ایسے حالات میں ہو سکتے ہیں جہاں گرمی انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ورلڈ کپ 2026 کے میچز امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے مختلف شہروں میں ہوں گے۔ ان میں سے کئی شہر موسم گرما میں شدید گرمی کے لیے مشہور ہیں۔مثلا: ڈلاس، ہیوسٹن، میامی، مونٹیری، میکسیکو سٹی، اٹلانٹا
ان شہروں میں جون اور جولائی کے دوران درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ اگر نمی بھی زیادہ ہو تو محسوس ہونے والی گرمی اس سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔خاص طور پر میامی اور ہیوسٹن جیسے علاقوں میں نمی بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث جسم کا پسینہ بخارات بن کر خارج نہیں ہو پاتا اور جسم تیزی سے گرم ہونے لگتا ہے۔فٹ بال ایک انتہائی جسمانی کھیل ہے۔ ایک کھلاڑی میچ کے دوران اوسطاً 10 سے 12 کلومیٹر دوڑتا ہے۔ شدید گرمی میں یہ جسمانی محنت کئی گنا زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔گرمی صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کھلاڑیوں کے فیصلے، ردعمل کی رفتار اور برداشت متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شدید گرمی میں کھلاڑیوں کی دوڑنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور انجری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ورلڈ کپ صرف کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ لاکھوں شائقین کا بھی میلہ ہوتا ہے۔ ہزاروں افراد اسٹیڈیمز کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، گھنٹوں سفر کرتے ہیں اور کھلے آسمان تلے وقت گزارتے ہیں۔
ابھی تک فیفا نے ورلڈ کپ ملتوی کرنے یا شیڈول تبدیل کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمی حالات مزید خراب ہوئے تو میچوں کے اوقات یا مقامات تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔2022 کا قطر ورلڈ کپ اس کی ایک مثال ہے۔ قطر میں شدید گرمی کے باعث ٹورنامنٹ کو پہلی بار نومبر اور دسمبر میں منتقل کیا گیا تھا۔
لیکن 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے صورتحال مختلف ہے کیونکہ ٹورنامنٹ تین ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے یورپی فٹ بال کیلنڈر متاثر ہوگا اور ٹی وی براڈکاسٹنگ معاہدے موجود ہیں۔اس ٹورنامنٹ سے تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔اسی لیے مکمل التوا مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم جزوی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فیفا کو اب کھیل کے ساتھ ساتھ موسمیاتی حکمت عملی بھی تیار کرنا ہوگی۔ چند ممکنہ اقدامات یہ ہو سکتے ہیں:میچوں کے اوقات تبدیل کرنا،دوپہر کے بجائے رات کے وقت میچ رکھے جائیں تاکہ گرمی کم ہو۔ہر ہاف میں اضافی وقفے دیے جائیں تاکہ کھلاڑی پانی پی سکیں۔ایئر کنڈیشنڈ یا کولنگ سسٹم والے اسٹیڈیم استعمال کیے جائیں۔ہر اسٹیڈیم میں فوری طبی امداد کی مکمل سہولت ہو اوراسٹیڈیم کے اطراف پانی، سایہ اور کولنگ زونز بنائے جائیں۔
یہ مسئلہ صرف ایک ورلڈ کپ تک محدود نہیں۔ اگر عالمی درجہ حرارت بڑھتا رہا تو مستقبل میں کھیلوں کے بڑے ایونٹس کا انعقاد مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق صنعتی انقلاب کے بعد زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والی دہائیوں میں شدید گرمی معمول بن سکتی ہے۔دنیا بھر میں کھیلوں کی تنظیمیں اب ماحول دوست پالیسیوں پر زور دے رہی ہیں۔ کاربن اخراج کم کرنے، ماحول دوست اسٹیڈیم بنانے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
فیفا نے بھی“گرین ورلڈ کپ”کے وعدے کیے ہیں، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ صرف وعدے کافی نہیں۔ اگر کھیلوں کی دنیا واقعی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اگر شدید گرمی کے باعث میچوں کا شیڈول متاثر ہوا تو اس کے معاشی نتائج بھی بڑے ہو سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے براڈکاسٹنگ کمپنیوں کو نقصان، سیاحت متاثر، ٹکٹ فروخت میں کمی، اسپانسرز کی تشویش اور اضافی حفاظتی اخراجات ہوسکتے ہیں۔ورلڈ کپ اربوں ڈالر کی معیشت سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے موسمی خطرات مالی بحران بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں کئی معروف کھلاڑی شدید گرمی میں کھیلنے پر تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔ ٹینس، کرکٹ اور فٹ بال کے متعدد ستاروں نے کہا کہ انسانی صحت کو تجارتی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں کھلاڑیوں کی یونین مزید مضبوط موقف اختیار کریں اور شدید گرمی میں کھیلنے کے خلاف قواعد کا مطالبہ کریں۔
2026 کا فیفا ورلڈ کپ شاید ایک نئے دور کی ابتدا ثابت ہو۔ ایسا دور جہاں کھیلوں کی منصوبہ بندی صرف اسٹیڈیم، ٹیموں اور نشریات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ موسمیاتی سائنس بھی اس کا لازمی حصہ ہوگی۔ گرمیوں کے بڑے ٹورنامنٹس سردیوں میں منتقل ہوں، بند اسٹیڈیم زیادہ عام ہو جائیں، موسمیاتی خطرات کھیلوں کے قوانین کا حصہ بن جائیں اور شہروں کا انتخاب موسم کی بنیاد پر کیا جائے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 ابھی ملتوی نہیں ہوا لیکن موسمیاتی تبدیلی نے اس عالمی ایونٹ پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ضرور لگا دیا ہے۔ شدید گرمی صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت، کھیلوں کی شفافیت، معاشی استحکام اور عالمی منصوبہ بندی کا چیلنج بن چکی ہے۔
یہ صورتحال دنیا کو ایک واضح پیغام دے رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا بحران ہے۔ اگر عالمی برادری نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو شاید آنے والے برسوں میں صرف ورلڈ کپ ہی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے کئی شعبے شدید متاثر ہوں گے۔
فٹ بال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اور اگر یہی کھیل موسمیاتی خطرات کے باعث متاثر ہونے لگے تو یہ پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ ہوگی کہ زمین کا بدلتا ہوا موسم اب کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج بن چکا ہے۔ (یواین آئی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں