0

ایران میں 90 دن بعد بین الاقوامی انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم

تہران، 26 مئی: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز دوبارہ بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 90 دنوں سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث نافذ کی گئی تھی۔
رپورٹ میں ایرانی وزارت مواصلات کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کے حوالے سے کہا گیا کہ حکومت نے انٹرنیٹ سروسز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کیلئے کون سا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے ’’انٹرنیٹ آبزرویٹری نیٹ بلاکس‘‘ نے پیر کے روز کہا کہ گزشتہ 87 دنوں کے دوران ایران میں بیشتر شہری بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم رہے۔
ادارے کے مطابق صرف وہی افراد عالمی انٹرنیٹ استعمال کر پا رہے تھے جو ’’وی پی این‘‘ سروسز استعمال کرتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ابتدا میں 8 جنوری کو مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی محدود کی تھی۔
بعد ازاں یہ مظاہرے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔
واضح رہے کہ ایران میں عام حالات میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال پر مختلف نوعیت کی پابندیاں اور سنسر شپ نافذ رہتی ہے، جبکہ متعدد ویب سائٹس تک رسائی محدود ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال میں آن لائن تعلیمی سرگرمیوں اور کلاسز کی وجہ سے انٹرنیٹ کی بحالی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں