سری نگر، 24دسمبر(یو این آئی) وادی کشمیر میں حالیہ برف بری کے بعد شہرہ آفاق سیاحتی مقامات گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ کی رونق میں چار چاند لگ گئے ہیں جس نے نہ صرف سیاحوں کے لئے تفریح کا نیا سامان پیدا کیا ہے بلکہ مقامی کاروباری طبقے میں بھی نئی امیدیں روشن کر دی ہیں۔
ان سیاحتی مقامات میں سفید برف کی ملائم تہوں نے دیودار کے جنگلات، پہاڑوں کی بلند چوٹیوں، چراگاہوں، دریاؤں کے کناروں اور کھلی وادیوں کو ایسی دلکشی عطا کی ہے کہ ہر منظر کسی پینٹنگ کا عکس محسوس ہوتا ہے۔
برفانی کھیلوں کا مرکز گلمرگ اس بار پہلی ہی برفباری میں ایک غیر معمولی چمک کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
گولف کورس پر پڑی ہموار برف، آفروٹ کی ڈھلوانیں، کانگڈوری کی پہاڑیاں اور مشہور گونڈولا کے آس پاس کا پورا علاقہ برف میں ڈوبا ہوا نظر آ رہا ہے۔
حیدرآباد سے آئی 29 سالہ سیاح روچنا نائیک خوشی سے بےقابو نظر آئیں۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اتنی جلدی اتنی خوبصورت برف دیکھوں گی۔ جیسے ہی ہم نے برف سے ڈھکا گولف کورس دیکھا، ایسا لگا جیسے دنیا رک گئی ہو۔ یہ جگہ کسی خواب سے کم نہیں’۔
گلمرگ کے ہوٹلز، ریستوران، سلیج مالکان، گرم کپڑوں کی دکانیں سب اپنے کام میں انتہائی مصروف نظر آ رہے ہیں۔
ایک مقامی دکاندار محمد مقبول نے کہا: ‘پچھلے دو ماہ موسم خشک رہنے کی وجہ سے کاروبار مرجھا گیا تھا۔ آج پہلی برف پڑی اور شام سے پہلے ہی لگ رہا تھا کہ سیزن شروع ہو گیا ہے’۔
بال تل، تھجواس گلیشیئر اور آس پاس کی چراگاہوں پر پڑنے والی برف سورج کی روشنی میں اس شدت سے چمک رہی ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔
ایم ایس سیولوجی کی طالبہ فاطمہ قریشی نے کہا: ‘ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ہر درخت پر برف نے جواہرات سجا دیے ہوں۔ میں نے زندگی میں اتنی خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی۔ سونہ مرگ واقعی اپنی مثال آپ ہے’۔
ایک اور مقامی دکاندار اور سلیج مالک اشتیاق احمد نے بتایا کہ برفباری نے ان کی آمدنی میں فوری اضافہ کیا ہے
انہوں نے کہا: ‘دو ہفتے سے کاروبار تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ آج سیاحوں نے سلیج رائیڈ کے لیے لائنیں لگا لیں۔ ہم سب کے گھروں میں دوبارہ چولہے جلنا شروع ہو گئے ہیں’۔
تازہ برفباری کے بعد پہلگام کی آڑُو ویلی، بیٹا پوٹھ اور چندن واری کے علاقوں نے بھی سیاحوں کو مسحور کر دیا ہے۔
گجرات کے ایک سیاح نے بتایا:’یہ میری پہلی کشمیر یاترا ہے۔ آڑو ویلی پہنچتے ہی ہمیں ایسا لگا کہ ہم کسی دیومالائی دنیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ قدرت کا وہ حسن ہے جو شاید دنیا میں کہیں اور نہیں’۔
مقامی گھوڑے بان نثار لاوے نے کہا: ‘برف نے ہمارا روزگار بچا لیا ہے۔ ہم روز صبح سے شام تک سیاحوں کو آرُو کی پگڈنڈیوں تک لے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے’۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ برف نہ صرف سیاحت بلکہ پانی کے ذخائر اور زراعت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
پہلگام کے ایک بزرگ غلام نبی ڈار نے بتایا: ‘جب پہاڑوں پر وقت پر برف پڑتی ہے تو اگلے سال پانی بھی اچھا ملتا ہے جو زراعت اور سیاحت کے لئے فائدہ بخش ہے’۔
0
