سری نگر،25 دسمبر(یو این آئی) وادی میں طلبہ کے مستقبل سے جڑے اہم معاملے پر حکومت کی تاخیر اور عدم توجہی پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے ممبرِ پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ہفتے تک طلبہ سے بات نہ کی اور مسئلے کے حل پر واضح موقف پیش نہ کیا تو وہ نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو طلبہ کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو کر اُن کی آواز کو دوبارہ ایوانِ اقتدار تک پہنچائیں گے۔
آغا روح اللہ مہدی نے جمعرات کے روز ایک اہم بیان میں کہا کہ انہوں نے نہ کبھی طلبہ کو بھلایا ہے اور نہ ہی انہیں تنہا چھوڑا ہے۔ انہوں نے حکومت سے ایک بار پھر پرزور اپیل کی کہ وہ فوری طور پر طلبہ سے بات کرے اور انہیں اس مسئلے کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات اور فیصلوں سے صاف صاف آگاہ کرے۔
آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ اگر حکومت کی طرف سے ہفتے تک کوئی پیش رفت سامنے نہ آئی تو وہ نوجوانوں اور طلبہ کو بے سہارا نہیں چھوڑیں گے۔ ’اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو میں خود طلبہ کے درمیان آ کر اُن کے ساتھ بیٹھوں گا۔ آنے والے اتوار کو ہم اُسی مقام پر جمع ہوں گے جہاں گزشتہ برس 23 دسمبر کو طلبہ کی آواز کو بلند کرنے کے لیے احتجاج کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایک احتجاج کا نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا ہے، اور اس میں کسی قسم کی تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ مہدی نے حکومت پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو غیر یقینی صورتحال میں نہ دھکیلا جائے اور فوری طور پر اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔
