سری نگر:۶۲،دسمبر : جموں و کشمیر ٹریفک پولیس نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کےخلاف کارروائی مزید سخت کر دی ہے، اور حالیہ دنوں469 ڈرائیونگ لائسنس معطل جبکہ 419 لائسنس منسوخ یا نااہل قرار دیے گئے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق یہ کارروائیاں موٹر وہیکلز ایکٹ 1988 کے تحت سرینگر اور جموں میں موٹر وہیکلز ڈیپارٹمنٹ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے چند ہفتوں سے جاری مشترکہ اور خصوصی مہم کے دوران انجام دی گئیں۔ حکام کے مطابق سنگین اور عادی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں انجام دی گئیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں چیکنگ کے دوران ٹریفک قوانین کی بار بار خلاف ورزی کرنے والے1000سے زیاد ہ ڈرائیوروں کے لائسنس کارروائی کے لیے فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ای ٹی وی بھارت نے سینئر ٹریفک پولیس آفیسرمنصور احمدکاحوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ”حکام کی کارروائی کے دوران تیزی رفتاری، ڈرائیونگ کے دوران لاپروائی، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے بغیر ڈرائیونگ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال، کم عمر ڈرائیورز اور دیگر خطرناک خلاف ورزیوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔“ٹریفک پولیس افسر نے مزید کہا کہ ”کمرشل، اسکول گاڑیاں، اسمارٹ سٹی اور جدید شہری منصوبوں کے تحت چلنے والی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی گئی، اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی بسوں کو اصلاح تک سڑکوں پر چلنے سے منع کیا گیا ہے۔“ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ نے اب کم عمر ڈرائیونگ کی اجازت دینے والے والدین اور گاڑی مالکان کےخلاف بھی سخت قانونی دفعات کے تحت مقدمات درج کرنا شروع کر دئیے ہیں۔جموں صوبے کے پہاڑی ضلع ڈوڈہ میں ایک کم عمر ڈرائیور کے ہاتھوں راہ گیر کے زخمی ہونے کے بعد پولیس نے بچے کے والد کو موٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے گاڑی ضبط کر لی، جبکہ سرینگر میں 6 دسمبر کو ٹریفک عدالت نے کم عمر بیٹی کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے والے ایک اور والد کو 3 سال قید، 25 ہزار روپے کا جرمانہ، 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور ایک سال کے لئے گاڑی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سزا سنائی۔یہ سخت اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر میں سڑک حادثات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حالیہ دنوں جموں کے قریب اسکول بس الٹنے سے درجنوں طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ سرینگر-جموں شاہراہ پر متعدد حادثات کے واقعات کے دوران درجنوں مسافر زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں ہر سال ٹریفک حادثات کے دوران سینکڑوں افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے جبکہ کئی افراد عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔پہاڑی اضلاع خاص کر رام بن اور کشتواڑ میں گاڑیوں کے گہری کھائیوں میں گرنے کے باعث کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ حکام کے مطابق اس طرح کے بیشتر ٹریفک حادثات تیز رفتار ڈرائیونگ، دھند، برف، کم وزبلٹی، پھسلن اور موسمی شدت کے باعث رونما ہوئے۔ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ ”سردیوں میں دھند اور پھسلن کے باعث حادثات کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، اس لیے قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے آگاہی مہم بھی جاری رہے گی، خصوصاً ڈرائیورز، طلبہ اور والدین کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا“۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق سنگین جرائم پر نہ صرف لائسنس معطلی بلکہ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی، اور یہ مہم موسم سرما کے دوران مزید تیز کی جائے گی۔
0
