0

مرکزی داخلہ سیکریٹری کی ایل جی منوج سنہا سے اہم ملاقات، سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

جموں،15جنوری(یو این آئی) مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کے درمیان، مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے جمعرات کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ ایک اہم و اعلیٰ سطحی میٹنگ کی، جس میں وادی کشمیر اور جموں خطے میں جاری سیکورٹی چیلنجوں، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں گزشتہ دو برسوں کے دوران گھنے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں سرگرم درجنوں دہشت گردوں کی موجودگی کے واضح انٹیلی جنس اشارے ملے ہیں۔
حکام کے مطابق ہوم سکریٹری دو روزہ دورے پر بدھ کی سہ پہر جموں پہنچے اوربدھ کے روز کنونشن سینٹر میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ جمعرات کو انہوں نے ایل جی منوج سنہا کے ساتھ ملاقات کی، جس میں سیکورٹی، آپریشنل تیاریوں، بین ایجنسی ہم آہنگی، سرحدی انتظامات اور حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق جامع گفتگو کی گئی۔
ذرائع کے مطابق میٹنگ میں کشمیر اور جموں کے دونوں خطوں میں بدلتی سیکورٹی صورتحال، خاص طور پر ہمالیائی بیلٹ اور پیر پنجال کے دُشوار گزار علاقوں میں جاری تلاشی آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی۔ داخلہ سکریٹری نے پیر پنجال رینج میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں، گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں، اور حالیہ مہینوں میں گھات لگا کر حملوں کے واقعات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
اہم ترین پہلو سرحدی علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں کا تھا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق، بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ڈرون سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ تشویش ناک ہے، جس کے ذریعے اسلحہ، گولہ بارود اور نقدی پہنچائے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ دھند اور شدید سردی کے موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی دہشت گرد گروہ سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، بی ایس ایف کے ڈی جی پربین کمار، سی آر پی ایف کے سربراہ جی پی سنگھ، جموں وکشمیر پولیس کے ڈی جی نالِن پربھات سمیت فوج، انٹیلی جنس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران سرحدی سیکورٹی کے انتظامات، ہائی آلٹیٹیوڈ علاقوں میں آپریشنل نظم، دہشت گردی کے خلاف جاری مشترکہ کارروائیوں اور ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی واضح رہے کہ 8 جنوری کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی تھی کہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے، معاون نیٹ ورکس اور فنڈنگ چینلز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ہوم سکریٹری کی میٹنگ اسی پالیسی تسلسل کا حصہ قرار دی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، سیکورٹی حکام نے اجلاس میں بتایا کہ پیر پنجال، راجوری، پونچھ اور ریاسی کے جنگلات میں سرگرم تقریباً تین درجن دہشت گردوں میں سے متعدد غیر ملکی،خصوصاً پاکستانی نژاد—ہیں، جو 2021-22 کے دوران دراندازی کر کے یہاں پہنچے تھے اور مقامی سطح پر نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔
میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ فورسز آپریشنز، بالخصوص بلند پہاڑی علاقوں میں لانگ رینج پیٹرولنگ اورفضائی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔ ڈرون مخالف ٹیکنالوجی کی تعیناتی کو بھی مزید بڑھایا جائے گا۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہری علاقوں میں قانون و نظم کے ساتھ ساتھ سرحدی و پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔
دو روزہ دورے کے اختتام پر امید کی جا رہی ہے کہ ہوم سکریٹری مرکزی سرکار کو جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں