سری نگر،21 جنوری(یو این آئی) یوم جمہوریہ کی آمد سے قبل جموں و کشمیر کےموسم گرما کے دارالحکومت سرینگر میں سیکورٹی کے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر میں گزشتہ چند دنوں سے جو سرگرمی دیکھی جا رہی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، سیول انتظامیہ اور مختلف سیکیورٹی ایجنسیاں کسی بھی ممکنہ خطرے یا تخریب کاری کو روکنے کے لیے پوری طرح چوکس اور سرگرم ہیں۔ سڑکوں پر نمایاں موجودگی، جگہ جگہ ناکہ بندی، گاڑیوں کی تفصیلی جانچ، رات کے وقت مسلسل گشت، حساس علاقوں میں اضافی نفری کی تعیناتی اور سینئر افسران کے اچانک معائنے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر کو ایک مضبوط حفاظتی حصار میں بدل دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یوم جمہوریہ ایک ایسا قومی ایونٹ ہے جس کے دوران نہ صرف سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تخریب کار عناصر بھی سرگرمی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے شہر بھر میں ایک جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے،جس کے تحت سری نگر کو مختلف سیکورٹی زونز میں تقسیم کر کے وہاں خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں نہ صرف ناکہ بندی کے ذریعے گاڑیوں کی جانچ کرتی ہیں بلکہ پیدل گشت کے ذریعے گلی کوچوں اور بازاروں میں بھی صورتِ حال پر نظر رکھتی ہیں۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی ناکے قائم کیے گئے ہیں جہاں شناختی دستاویزات کی جانچ، گاڑیوں کے اندرونی حصوں کی تلاشی اور سامان کی اسکیننگ کی جاتی ہے۔ اس عمل کو وقت طلب ضرور قرار دیا گیا ہے لیکن پولیس کے مطابق یہ اقدامات عوام کی سلامتی اور تقریب کے پرامن انعقاد کے لیے ناگزیر ہیں۔ کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ پیراملٹری فورسز کی مشترکہ ٹمیں بھی سرگرم نظر آرہی ہیں، جو کسی بھی مشکوک حرکت کا فوری پتہ لگانے کے لیے جدید آلات اور نگرانی کے نظام سے لیس ہیں۔
رات کے وقت گشت کو خاص طور پر اس سال مزید بڑھایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق رات کی تاریکی میں تخریبی سرگرمیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے خصوصی پیٹرولنگ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں گشت کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ نیم شب سے لے کر صبح تک گشت جاری رہتا ہے اور کئی مقامات پر پولیس کی تیز رفتار موبائل یونٹس بھی تعینات کی گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ اچانک ناکے بھی لگائے جاتے ہیں جہاں چند منٹ کے لیے پورا ٹریفک روک کر گاڑیوں اور راہگیروں کی فوری تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف نگرانی کا دائرہ بڑھاتے ہیں بلکہ ممکنہ مشکوک عناصر کو متنبہ بھی کرتے ہیں کہ شہر اس وقت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہے۔
سینئر پولیس افسران خود بھی مختلف علاقوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کی موجودگی، موثر انتظامات اور کسی بھی کمزوری کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔ ان معائنوں کے دوران افسران ماتحت عملے کو تازہ ہدایات دیتے ہیں اور زمینی صورتحال کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلی یا بہتری بھی لاتے ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پولیس کی اولین ترجیح یومِ جمہوریہ کی سرکاری تقریب کا مکمل امن و امان کے ساتھ انعقاد ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف بالکل واضح ہیں: شہر میں پرسکون ماحول، عوامی حفاظت، سیکیورٹی فورسز کی چوکس موجودگی اور ہر ممکن خطرے کا تدارک۔
حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ شہر کے کچھ مخصوص علاقوں میں ماضی کے واقعات اور موجودہ انٹیلی جینس ان پٹس کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر خفیہ وردی والے اہلکار بھی گشت کرتے نظر آتے ہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی حرکت یا مشکوک فرد کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی بھی مزید سخت کردی گئی ہے۔ شہر میں موجود ہزاروں کیمروں کے ذریعے ملنے والی لائیو فیڈ کو پولیس کنٹرول روم میں بیٹھے ماہرین چوبیس گھنٹے مانیٹر کررہے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر ڈرون نگرانی بھی جاری ہے۔
سیکورٹی انتظامات صرف زمینی نگرانی تک محدود نہیں ہیں بلکہ تکنیکی حوالے سے بھی انتظامیہ نے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، کھوجی کتے اور ٹیکنیکل ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں اہم عمارتوں، پلوں، بازاروں اور تقریب کے مقامات کا باقاعدہ معائنہ کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں یومِ جمہوریہ سے قبل کئی بار حساس مقامات کی کلیئرنس کرتی ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کا احتمال باقی نہ رہے۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ چیکنگ اور تلاشی کے عمل میں مکمل تعاون کریں۔ پولیس کے مطابق عمومی طور پر ایسے مواقع پر کچھ شہری وقت ضائع ہونے کی شکایت کرتے ہیں تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت کی جانے والی سیکیورٹی کارروائیاں براہ راست عوامی سلامتی سے جڑی ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں کوئی مشکوک شخص یا سرگرمی نظر آئے تو فوراً قریبی پولیس اسٹیشن یا پولیس کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔ عوامی تعاون نہ صرف مجموعی سیکیورٹی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ تخریب کار عناصر کے لیے سرگرمی دکھانے کے امکانات کو بھی انتہائی محدود کر دیتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب کے لیے بھی بھرپور تیاریاں جاری ہیں جو روایتی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جائے گی۔ اس تقریب میں اہم سرکاری افسران، حکومتی نمائندے، سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ اہلکار، معزز شہری اور طلباء کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ پریڈ، ثقافتی پروگرام، پرچم کشائی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے انتظام کرنے والے محکموں کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔ تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ تقریب کے روز اپنی ذمہ داریوں کو نہایت پیشہ ورانہ انداز میں نبھائیں اور عوام کو سہولت پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔
شہر میں اس وقت جو ماحول دکھائی دے رہا ہے وہ یومِ جمہوریہ کے انعقاد سے پہلے روایتی لیکن انتہائی مضبوط سیکیورٹی تیاریوں کی جھلک ہے۔ چاہے وہ بازاروں میں پیدل گشت ہو، سڑکوں پر ناکے ہوں، رات کے وقت پولیس کی گاڑیوں کی سائرن بجاتی موجودگی ہو، یا حساس مقامات پر اضافی نفری کے ساتھ چوکس اہلکار— ہر منظر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ سرینگر اس وقت ایک منظم سیکیورٹی دائرے میں ہے جس کا مقصد عوام کا تحفظ اور قومی تقریب کا پُرامن انعقاد یقینی بنانا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کے دن کی ضرورتوں کے مطابق ہر طرح کے حفاظتی انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں اور شہر میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام یونٹس الرٹ موڈ پر ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر سیکورٹی خطرات کے باوجود تقریب انتہائی پرامن رہی ہے اور اس مرتبہ بھی وہی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر سرینگر میں یوم جمہوریہ سے قبل جو سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں وہ نہ صرف معمول سے زیادہ سخت ہیں بلکہ کئی حوالوں سے گزشتہ برسوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حالات کے تقاضوں کے مطابق ہیں اور ان کا مقصد عوام کو ایک محفوظ، پُرسکون، منظم اور قومی اہمیت کے حامل اس دن کی خوشیاں بے خوفی کے ساتھ منانے کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
0
