جموں،22 جنوری (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں جمعرات کو سول سیکریٹریٹ جموں میں ایک اہم کابینہ میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں آئندہ بجٹ سیشن سے متعلق معاملات اور مختلف عوامی و انتظامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ قانون ساز اسمبلی کا بجٹ سیشن 2 فروری سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب کے ساتھ شروع ہوگا۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق، عمر عبداللہ نے کابینہ کے ارکان کے ساتھ سرکاری پالیسیوں اور عوامی فلاح سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا۔ کابینہ میں کیے گئے تمام فیصلے لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوں گے۔ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چوہدری، وزراء سکیِنہ اِیتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما کے علاوہ چیف سیکریٹری اتل ڈولو بھی موجود تھے۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا، لیکن باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بالخصوص بجٹ سیشن کے افتتاحی خطاب اور سالانہ بجٹ میں شامل ممکنہ فلاحی اقدامات پر توجہ مرکوز رہی۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں عام شہریوں کے لئے کئی اہم ریلیف اور ترقیاتی اقدامات شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ریاست کے وزیر خزانہ بھی ہیں، اپنی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کریں گے اور اس سلسلے میں کابینہ میٹنگ میں بجٹ کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتظامی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
کابینہ اجلاس کو بجٹ سیشن سے قبل حکومت کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ریاست میں بہتر طرز حکمرانی، مضبوط اقتصادی ڈھانچہ اور موثر فلاحی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
0
