سری نگر،24جنوری (یو این آئی) یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل فوج نے لائن آف کنٹرول کے حساس اوڑی سیکٹر میں سیکیورٹی گرڈ کو مزید سخت کرتے ہوئے نگرانی اور گشت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے تاکہ سرحد پار سے کسی بھی ممکنہ دراندازی کی کوشش کو ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام بنایا جا سکے۔ فوجی حکام کے مطابق پچھلے دو ہفتوں کے دوران ایل او سی کے پار مشکوک نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد اوڑی سمیت شمالی کشمیر کے مختلف فارورڈ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
اوڑی سیکٹر میں فوج کے جوان شدید سردی، برف باری اور دشوار گزار زمینی حالات کے باوجود مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ فوج کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یوم جمہوریہ سے قبل دراندازی کی کوششیں بڑھنے کا خدشہ ہمیشہ رہتا ہے، خصوصاً اس موسم میں جب برفانی چوٹیوں اور گھنے جنگلات کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد سازگار راستے تلاش کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے پوری سرحدی پٹی پر تین سطحی سیکورٹی گرڈ قائم کیا ہے، جس میں گشت، نگرانی اور فائر سپورٹ سسٹم کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔
فوج نے اوڑی کے متعدد فارورڈ چوکیوں میں نگرانی کے لیے ڈرون اور ہیلی کاپٹر سرویلنس بھی بڑھا دیا ہے، جبکہ کچھ مقامات پر نئے اوبزرویشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر نظر رکھی جا سکے۔
ادھر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کے آس پاس پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور دراندازی کی کوششوں میں اضافہ ایک پرانی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد کشمیر کے امن اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ فوج نے پہل کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں پہلے سے زیادہ مستعدی اختیار کی ہے۔
فوجی حکام نے واضح کیا ہے کہ اوڑی سیکٹر سمیت پورے شمالی کشمیر میں سیکیورٹی گرڈ کو اس حد تک فعال کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی دراندازی ممکن نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاریاں مکمل ہیں اور کسی بھی کوشش کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
0
