0

کشمیر میں بھاری برف باری نے فضائی و زمینی نظام درہم برہم

سری نگر،27 جنوری (یو این آئی) وادیِ کشمیر میں جاری بھاری برف باری نے نہ صرف زمینی اور ہوائی رابطوں کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ کئی سیاح اور مسافر بھی مختلف مقامات پر درماندہ ہو کر رہ گئے ہیں، جس کے باعث پورے خطے میں نقل و حمل اور روزمرہ سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہیں۔ سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منگل کے روز دن بھر اڑانوں کی منسوخی اور تاخیر کا سلسلہ جاری رہا اور خراب موسم کے باعث مجموعی طور پر پچاس پروازیں، جن میں پچیس آمد اور پچیس روانگی شامل تھیں، منسوخ کر دی گئیں۔ اس منسوخی کے نتیجے میں سینکڑوں سیاح جو اختتامِ ہفتہ اور یوم جمہوریہ کی تعطیلات منانے کے بعد گھروں کی طرف واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے، وادی میں ہی پھنس گئے اور ہوائی اڈے پر بدنظمی اور پریشانی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق صبح سے ہی برف باری کی شدت اور رن وے کی مسلسل صفائی کے باوجود کم ہوتی ہوئی حد نگاہ کی وجہ سے پروازوں کو آپریٹ کرنا مشکل تھا۔ دن بھر کوششوں کے باوجود پروازوں کو بحال نہ کیا جا سکا اور ایئرلائنوں نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ٹکٹوں اور متبادل شیڈول کے بارے میں براہِ راست متعلقہ ایئرلائن سے رابطے میں رہیں کیونکہ موسم کی صورتحال کسی وقت بھی مزید تبدیل ہو سکتی ہے۔
شدید برف باری کا اثر صرف فضائی نظام تک محدود نہیں رہا بلکہ زمینی راستوں پر بھی اس کے سنگین اثرات نمایاں ہوئے۔ وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی اہم ترین شاہراہ، جموں وسری نگر قومی شاہراہ، دو دن کی مکمل بندش کے بعد جزوی طور پر بحال تو کر دی گئی مگر بھاری مشینری کی مدد سے برف ہٹانے کے باوجود لمبی قطار میں سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ متعدد مقامات پر پھسلن، پتھروں کے گرنے اور برفانی تودوں کے خدشات کے سبب ٹریفک پولیس نے احتیاطی ہدایات جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف انتہائی مجبوری کی صورت میں ہی شاہراہ استعمال کریں۔
ریلوے حکام کے مطابق کشمیر ریلوے کی تمام گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور کہیں رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی ہے، جس سے وادی کے اندرونی سفر میں کچھ حد تک آسانی پیدا ہوئی ہے، لیکن ہوائی اور زمینی راستوں کی رکاوٹ نے مجموعی نقل و حمل کا توازن اب بھی بگڑا ہوا ہے۔
وادی کے مختلف حصوں میں لوگوں نے شدید برف باری کے باوجود باہر نکل کر اس موسم کا لطف اٹھایا، خاص طور پر نوجوانوں نے برف کے گولے کھیلتے اور تصاویر بناتے ہوئے موسم کو انجوائے کیا لیکن دوسری طرف روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ شہروں اور قصبوں میں بازار دیر سے کھل رہے ہیں، ٹرانسپورٹ کم ہو گیا ہے، دفاتر جانے والوں کو صبح سویرے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بجلی کے اچانک بند ہونے سے گھریلو نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال زیادہ مشکل ہے جہاں کئی بستیاں اب بھی برف کی موٹی تہہ میں دبی ہوئی ہیں اورکئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہیں۔
محکمہ موسمیات نے مزید پیش گوئی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک وادی کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برف باری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم شدید برف باری کا امکان کم ہو گیا ہے۔ محکمے نے پہاڑی اور برفانی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں برفانی تودوں کے خدشے والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں کیونکہ مسلسل برف باری کے باعث ڈھلانوں پر برف کمزور ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں