0

جموں و کشمیر اسمبلی کے بجٹ سیشن سے قبل اسپیکر نے آل پارٹی میٹنگ طلب کی

سری نگر،27 جنوری (یو این آئی) جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ سیشن شروع ہونے سے قبل اسمبلی کے اسپیکر عبدالرّحیم راتھر نے اعلان کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے اور ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم آل پارٹی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ اسپیکر نے کہا ہے کہ اس سیشن کے دوران ارکانِ اسمبلی کو عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھانا چاہیے تاکہ لوگوں کے بنیادی مسائل اسمبلی کی سطح پر سنجیدگی سے حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں بحث و مباحثہ عوامی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے اور قیمتی وقت غیر ضروری ہنگامہ آرائی یا غیر متعلقہ معاملات میں ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ سیشن کا آغاز 2 فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے ہوگا۔ یہ موجودہ قانون ساز اسمبلی کا پانچواں اجلاس ہے جبکہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت اپنا دوسرا بجٹ 6 فروری کو پیش کرے گی۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ سیشن مجموعی طور پر 27 اجلاس دنوں پر مشتمل ہوگا، جس کا اختتام 4 اپریل کو ہوگا۔ اس دوران ایوان کی کارروائی تین مرحلوں میں تقسیم کی گئی ہے، جن میں پہلا مرحلہ رمضان سے قبل اور دو مرحلے رمضان اور عید کے بعد ہوں گے۔
اسپیکر عبدالرّحیم راتھر کے مطابق حکومت نے ابھی سے مختلف محکموں کے ساتھ تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ بھی اجلاس کے آغاز سے قبل ہوگی جس میں ایوان کی کارروائی اور بحث کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ہر رکن کو مناسب موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے حلقے کے مسائل پیش کرے اور مختلف محکموں سے جواب طلب کرے۔
اس سال فروری کا مہینہ اسمبلی کے اعتبار سے سب سے مصروف تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اسی ماہ میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر تین روزہ بحث ہوگی، وزیر اعلیٰ جواب دیں گے اور اسی دوران بجٹ پر عمومی بحث بھی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو کہ محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، 2026–27 کے مالی سال کا بجٹ اور 2025–26 کی اضافی اخراجاتی تفصیلات 6 فروری کو پیش کریں گے۔ اس کے بعد بجٹ پر عمومی بحث 7، 9 اور 10 فروری کو رکھی گئی ہے۔
اسمبلی کیلنڈر کے مطابق محکمانہ گرانٹ پر بحث 11 سے 19 فروری تک ہوگی، جس کے بعد ایوان ایک ماہ سے زائد وقفے پر چلا جائے گا تاکہ مختلف محکمے اپنی تجاویز اور تکنیکی کارروائیاں مکمل کر سکیں۔ اجلاس دوبارہ 27 مارچ کو شروع ہوگا، جب بجٹ کو اپروپریشن بل کی صورت میں منظور کیا جائے گا۔ مارچ اور اپریل میں سرکاری کام، پرائیویٹ ممبر بلز اور قراردادوں کے لیے خصوصی دن بھی مختص کیے گئے ہیں۔
اسپیکر نے تمام ارکانِ اسمبلی کو یہ پیغام دیا ہے کہ عوام کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہیں اور لوگوں کو توقع ہے کہ ان کے مسائل ایوان میں سنجیدگی سے اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا مقصد صرف سیاسی اختلافات کا اظہار نہیں بلکہ عوامی مفاد کے فیصلے کرنا ہے۔ ان کے مطابق ارکان کو چاہیے کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ آئیں، اپنے علاقوں کے مسائل پر مدلل بحث کریں اور حکومت کو جوابدہ بنائیں تاکہ عوام کے مسائل کا حل نکل سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ دوسرا بجٹ ہونے کے باعث اس سیشن کی اہمیت دوگنی ہو گئی ہے۔ یہ اجلاس نہ صرف مالی پالیسیوں کے حوالے سے اہم ہوگا بلکہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، ریاستی درجہ بندی اور انتظامی معاملات پر بھی اثرات مرتب کرے گا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ممکنہ بحث اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے باوجود اسپیکر کی کوشش ہے کہ ایوان کی کارروائی مثبت، جامع اور نتیجہ خیز رہے۔
عوام کی نظریں اس بات پر بھی جمی ہوئی ہیں کہ آنے والے بجٹ میں روزگار، بجلی، سڑکوں کی بہتری، صحت کے شعبے، سیاحت اور بنیادی سہولیات کو کس قدر ترجیح دی جائے گی۔ شہریوں کو امید ہے کہ موجودہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کا اعلان کرے گی اور اسمبلی میں ہونے والی بحث ان کے روزمرہ مسائل کے حل کی سمت راہ ہموار کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں