سرینگر//29جنوری//یو این ایس وزیر اعظمآواس یوجنا،اربن کے تحت جموں و کشمیر میں اب تک 45,112 منظور شدہ مکانات میں سے 35,167 کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً 78 فیصد تکمیل کی شرح بنتی ہے، جبکہ 9,945 مکانات تاحال زیرِ تکمیل ہیں۔یو این ایس کے مطابق یہ جانکاری پارلیمانی ریکارڈز میں پیش کردہ اعداد و شمار سے سامنے آئی ہے۔یو این ایس کے مطابقب نلوک سبھا میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں پی ایم اے وائی۔اربن کے تحت 586 کروڑ روپے کی مرکزی مالی امداد جاری کی گئی، جس میں سے 434.48 کروڑ روپے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 392.07 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ مدت میں تعمیراتی عمل کو تیز کرنے اور مکانات کی فراہمی یقینی بنانے پر خاص توجہ دی گئی۔ملکی سطح پر پی ایم اے وائی۔اربن کے تحت اب تک 1.22 کروڑ مکانات منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 97.02 لاکھ مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ 1.14 کروڑ مکانات کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ اس طرح ملک بھر میں تکمیل کی شرح تقریباً 79.3 فیصد بنتی ہے، جو جموں و کشمیر کی شرح سے معمولی زیادہ ہے۔واضح رہے کہ پی ایم اے وائی۔اربن کا آغاز جون 2015 میں کیا گیا تھا، جسے یکم ستمبر 2024 سے پی ایم اے وائی۔اربن 2.0 کے طور پر از سر نو ترتیب دیا گیا۔ نئے مرحلے کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ایک کروڑ اضافی شہری مستفیدین کو چار شعبوں کے ذریعے رہائش فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں بینیفشری لیڈ کنسٹرکشن، افورڈیبل ہاو ¿سنگ اِن پارٹنرشپ، افورڈیبل رینٹل ہاو ¿سنگ اور انٹرسٹ سبسڈی اسکیم شامل ہیں۔وزارت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مرکزی امداد تین اقساط (40 فیصد، 40 فیصد اور 20 فیصد) میں جاری کی جاتی ہے، جو ریاستوں اور شہری بلدیاتی اداروں کی جانب سے پیش رفت اور تعمیل سے مشروط ہوتی ہے۔ پی ایم اے وائی۔اربن 2.0 کے تحت ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام خطے کے حصے کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے کریڈٹ رسک گارنٹی فنڈ کو مضبوط بنانے اور ماحول دوست، پائیدار و آفات سے محفوظ تعمیرات کے فروغ کے لیے ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن سب مشن بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں شہری رہائشی قلت کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فنڈز کی بروقت فراہمی، بلدیاتی و ضلعی سطح پر عمل درآمد کی صلاحیت میں بہتری، اور مستفیدین کی شفاف فہرستوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ پی ایم اے وائی۔اربن 2.0 اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔
0
