سرینگر، 18 اپریل :سرینگر کے بمنہ علاقے میں واقع حج ہاؤس ہفتہ کی صبح ایک روح پرور اور جذباتی منظر پیش کر رہا تھا، جہاں کشمیر سے تعلق رکھنے والے عازمینِ حج کا پہلا قافلہ مقدس سفر کے لیے روانہ ہوا۔ فضا میں آنسو، دعائیں اور امیدوں کی خوشبو رچی ہوئی تھی، جبکہ اہلِ خانہ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جمع تھے۔
وادی سے سالانہ روحانی سفر کے آغاز کے ساتھ ہی حج ہاؤس میں ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا—کہیں خاموشی سے گلے ملتے لوگ، کہیں ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے ہوئے عزیز و اقارب، تو کہیں آنکھوں میں آنسو لیے مسافروں کو الوداع کہتے بچے اور خواتین۔ بزرگ عازمین تسبیح تھامے آیاتِ قرآنی کا ورد کرتے ہوئے اس مقدس سفر پر روانہ ہو رہے تھے۔
سرینگر کے ایک بزرگ عازم، علی محمد میر نے رخصتی کے لمحات میں کہا،
“ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے گھر آنے کی دعوت دی ہو۔ ہم نے برسوں اس لمحے کا انتظار کیا ہے۔”
اپنے والدین کو رخصت کرنے آئی ایک خاتون نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا،
“دل میں جدائی کا غم بھی ہے اور خوشی بھی کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ ہمارے پورے خاندان کے لیے ایک بڑی سعادت ہے۔”
ایک اور رشتہ دار، سمیر نے کہا،
“آج ہر گھر میں جذبات کا یہی عالم ہے۔ ہم سب دعاگو ہیں کہ اللہ تمام عازمین کو صحت و سلامتی کے ساتھ حج کی سعادت عطا کرے اور بخیریت واپس لوٹائے۔”
حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی کے مطابق، پہلے دن سرینگر سے تین پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر 431 عازمین کو روانہ کیا جا رہا ہے، جن میں 230 مرد اور 201 خواتین شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی پرواز میں 79 مرد اور 66 خواتین، دوسری میں 78 مرد اور 65 خواتین، جبکہ تیسری پرواز میں 73 مرد اور 70 خواتین شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عازمین کی سہولت کے لیے ٹرانسپورٹ، سامان کی ترسیل، طبی معائنہ اور دستاویزی کارروائی سمیت تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں، تاکہ روانگی کا عمل منظم اور سہل بنایا جا سکے۔
“ہم نے عازمین کے آرام اور سہولت کے لیے ہر ممکن انتظام کیا ہے اور صبح سے تمام عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے،” انہوں نے کہا۔
حکام کے مطابق، عازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مقررہ اوقات کے مطابق حج ہاؤس بمنہ پہنچیں۔ پہلی پرواز (QP-7521) کے مسافروں کو صبح 6:00 سے 6:30 بجے کے درمیان، دوسری (QP-7520) کو 8:15 سے 8:45 بجے تک، جبکہ تیسری پرواز (QP-7519) کے عازمین کو 9:00 سے 9:30 بجے تک رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عازمین کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے ہمراہ پاسپورٹ، ویزا کی نقل، ویکسینیشن کارڈ اور مقررہ سامان ہی لائیں اور ممنوعہ اشیاء سے مکمل اجتناب کریں۔
یہ رخصتی محض ایک سفر کا آغاز نہیں بلکہ ایمان، صبر اور روحانیت کی ایک ایسی داستان ہے جو ہر سال وادی کے گھروں سے حرمِ پاک تک جڑتی ہے—جہاں آنسو بھی عبادت بن جاتے ہیں اور دعائیں بھی۔
