سرینگر،17 اپریل :نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل لانے کے حوالے سے مرکزی حکومت کی نیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ابتدا میں بل اس لیے واپس لیا تھا کیونکہ اسے مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آئینی ترمیم ہونے کے باوجود اسے سادہ اکثریت سے منظور کرانے کی کوشش کی، جبکہ قانوناً اس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ انہوں نے کہا ان کے پاس نمبرز (اکثریت) نہیں ہیں۔ اب وہ آگے کیا کریں گے، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ لوگ حکومت کے اس رویے سے پریشان ہیں۔
واضح رہے کہ جمعہ کی شام لوک سبھا میں یہ ترمیمی بل مطلوبہ حمایت نہ ملنے کے باعث ناکام ہو گیا۔جموں و کشمیر میں کی گئی حلقہ بندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس عمل میں خامیاں تھیں جس نے عوامی عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔”آپ نے دیکھا کہ یہاں حلقہ بندیوں کے نام پر کیا کیا گیا۔ لوگ اب مزید فکر مند ہیں اور ان اقدامات کے پیچھے چھپے مقاصد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت پہلے سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل میں پہلے ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی خبروں میں کچھ نیا نہیں ہے۔فاروق عبداللہ نے دعا کرتے ہوئے کہا، “اگر دونوں فریقین کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ عالمی امن کے لیے بہتر ہوگا۔ پوری دنیا اس مسئلے میں پھنسی ہوئی ہے۔”
مغربی بنگال کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے ممتا بنرجی کی جیت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “انشاء اللہ، ممتا بنرجی جیتیں گی۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
یو این آئی۔
0
