0

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو دوٹوک پیغام، معاہدہ یا جنگ کا انتخاب

واشنگٹن، 5 مئی : ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نیک نیتی سے معاہدہ کرے یا پھر لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار رہے۔امریکی صدر نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کے آپریشن کے دوران امریکی جہازوں پر حملہ کیا گیا تو ایران کو سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اجتماع جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر جدید ترین ہتھیار استعمال کیے جائیں گے، تاہم ان کے مطابق ایران مذاکرات میں کسی حد تک لچک دکھا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے محدود فائرنگ کی گئی، جس سے صرف جنوبی کوریا کے ایک مال بردار جہاز کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ دیگر ممالک کو بھی اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی 7 چھوٹی فوجی کشتیاں تباہ کر دی ہیں، جبکہ اس سے قبل سینٹکام کے سربراہ بریڈ کوپر نے 6 کشتیوں کی تباہی اور میزائل و ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی تھی۔
بریڈ کوپر کے مطابق امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اور سی ہاک ہیلی کاپٹر نے ان کشتیوں کو نشانہ بنایا جو تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایرانی کشتی کو نقصان نہیں پہنچا اور امریکی بیانات بے بنیاد ہیں۔
ادھر ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ صورتحال کے پیش نظر فوج ہائی الرٹ پر ہے اور اسرائیل اپنے دفاعی نظام کو مکمل طور پر متحرک رکھے ہوئے ہے۔
قبل ازیں سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں اور یہ کارروائیاں ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کے تحت جاری ہیں، جس کا مقصد اس اہم گزرگاہ میں جہاز رانی کو بحال رکھنا ہے۔
تاہم پاسداران انقلاب نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ گھنٹوں میں کوئی تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یواین آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں