رائے پور، 18 مئی : وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور کے مانا پولیس پریڈ گراؤنڈ میں ریاستی پولیس کی جدید ترین ‘نیکسٹ جین سی جی ڈائل-112 سروس’ اور موبائل فورینسک وین کا افتتاح کیا۔
مسٹر شاہ نے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے اور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر رمن سنگھ کی موجودگی میں 400 جدید ترین ڈائل-112 گاڑیوں اور 32 موبائل فورینسک وینوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ وجے شرما، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ارون دیو گوتم، اراکین اسمبلی، عوامی نمائندے اور پولیس کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ قابل ذکر ہے کہ ’’ایک ہی نمبر، سب کے لیے‘‘ (ایکے نمبر، سبو بر) تھیم پر مبنی یہ جدید سروس پولیس، فائر بریگیڈ اور طبی خدمات کو یکجا کرتے ہوئے شہریوں کو ایک ہی نمبر پر فوری ہنگامی امداد فراہم کرے گی۔ اس کے تحت شروع کی گئی 400 جدید ترین گاڑیوں میں اسمارٹ فون، جی پی ایس، وائرلیس ریڈیو، پی ٹی زیڈ کیمرہ، ڈیش کیم، موبائل این وی آر اور سولر بیک اپ جیسی جدید سہولیات دستیاب ہیں۔ ان تکنیکوں کی مدد سے جائے وقوعہ کی لائیو مانیٹرنگ، ریئل ٹائم ٹریکنگ اور فوری مواصلات کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
یہ سروس 24 گھنٹے اور ساتوں دن کام کرے گی۔ اس میں جی آئی ایس پر مبنی مانیٹرنگ، ایڈوانسڈ وہیکل ٹریکنگ، ایس آئی پی ٹرنک ٹیکنالوجی اور خودکار کالر لوکیشن کی شناخت جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے۔ ریاست کے تمام 33 ضلعی رابطہ مراکز کو بھی اس نیٹ ورک سے جوڑ دیا گیا ہے۔ شہری وائس کال، ایس ایم ایس، ای میل، ویب پورٹل، واٹس ایپ، چیٹ بوٹ اور ایس او ایس-112 انڈیا ایپ کے ذریعے بھی مدد حاصل کر سکیں گے۔
اب تک جائے وقوعہ سے شواہد کو لیبارٹریوں تک پہنچانے میں وقت لگتا تھا، جس سے شواہد کے خراب ہونے کا امکان رہتا تھا اور رپورٹ آنے میں بھی تاخیر ہوتی تھی۔ نئی موبائل فورینسک وین کے ذریعے جائے وقوعہ پر ہی ابتدائی تحقیقات، شواہد کا تحفظ، جانچ اور ڈیجیٹل دستاویزی شکل دی جا سکے گی۔ اس سے تحقیقات کے معیار اور رفتار دونوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ریاستی حکومت کا مقصد سائنسی تحقیقات کو عوام تک پہنچانا، شواہد پر مبنی نظامِ انصاف کو مضبوط کرنا، جرائم کے کنٹرول میں فورینسک سائنس کے کردار کو بڑھانا اور وقت کے اندر، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔
جدید ڈائل-112 سروس اور موبائل فورینسک وین کے آپریشن سے ریاست میں ہنگامی خدمات کے معیار میں بڑے پیمانے پر بہتری آئے گی، جرائم کی تحقیقات کو نئی رفتار ملے گی اور امن و امان اور نظامِ انصاف پر عام شہریوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
یو این آئی
0
