گاندربل: ایشیا کی سب سے بڑی زوجیلا ٹنل کی اب صرف 210 میٹر کی کھدائی کا کام باقی رہو گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اگلے چند ماہ میں ٹنل کو آر پار کیا جائیگا۔ کنسٹرکشن مینیجر معراج الدین مرکز کے زیر انتظام علاقہ سرینگر لداخ شاہراہ کو سال بھر آمد و رفت کے لئے کھلا رکھنے اور سڑک حادث کو روکنے کے لئے مرکزی سرکار نے 6,809.69 کروڑ روپے کی لاگت سے 15. 13 کلو میٹر زوجیلا ئنل پر 2018 پر کام شروع کیا ہے. جس سے لداخ کے عوام کو راحت ملنے کے ساتھ ساتھ یہاں سیاحت کو بھی مزید فروغ حاصل ہوگا۔ میگا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹر پر لمیٹڈ (MEIL) کے کنسٹرکشن مینیجر معراج الدین نے کہا کہ ٹنل کا کام اکتوبر نومبر 2020 میں شروع ہوا تھا لیکن سخت سردی کے باعث اس وقت مکمل مشینری کی منتقلی اور افرادی قوت کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کے موسم بہار کے بعد ٹنل کا کام دونوں طرف ( منی مرگ اور باتل ) سے باضابطہ طور پر شروع کیا گیا اور لگا تار کام کرنے کے نتیجے میں اب 13 کلو میٹر میں سے صرف 210 میٹر کی کھدائی کا کام باقی رہ گیا ہے۔ کنسٹرکشن مینیجر معراج الدین نے بتایا کہ ٹنل میں داخل ہونے کے لئے سونمرگ نیلہ گراٹھ سے 17 کلو میٹر کا اپروچ روز تعمیر کیا گیا ہے جو سونہ مرگ منتقل سے زوجیلا مثل کے ویسٹرن پورٹل تک جاتا ہے جس میں دو چھوٹی منظر 1.95 کلو میٹر اور 450 میٹر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرک کے مختلف مقامات پر 7 کٹ اینڈ کو راسٹر کچر برفانی تودے کے بچاؤ کے لئے بنائے گئے ہیں۔ دارس کے رہنے والے مقامی شخص مختیار حسین نے بتایا پہلے چھ مہینے کے لیے راستہ بند رہتا تھا جس کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ہمیں پہلے ہی کھانے پینے کا سامان باہم رکھنا پڑتا تھا اور سردیوں میں وہی کھانے پینے کے لیے استعمال میں لاتے تھے انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ سالوں سے بارڈر روڈ ارگنائزیشن کی محنت کی وجہ سے زوجلا روڈ پہ برف ہٹانے کا کام جلدی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں کچھ مہینے کے لیے ارام ملتا تھا اب ٹنل بننے سے ہمیں کافی فائدہ ملے گا. ایک اور مقامی شخص ظہور احمد نے بتایا کہ ہمیں زوجلا ٹنل بننے سے بہت سارا فائدہ ملے گا سیاح کے ساتھ روزگار بڑھ جائے گا اور ہمیں تازی سبزی ملے گی اور ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ زوجلا ٹنل باہ ہونی چاہیے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارا خواب پورا ہو جائے گا جو ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا ہمارے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب ہمارے لیے کوئی ایمرجنسی بیمار ہوتا تھا ہمیں بیماروں کو چوپر کے ذریعے سری نگر یا پھر جموں لے جانا پڑتا تھا ٹنل بننے سے اب ہم سری نگر محض دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے اور دن میں ہی واپس ا جائیں گے ٹنل بننے سے ہمیں بہت سارے فائدے ملیں گے.
0
