مشترکہ قربانی اور مذہبی رجحان کے باعث کچھ لوگ اونٹ کو ترجیح دینے لگے
سرینگر//23مئی عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی وادی کشمیر کے مویشی بازاروں میں رونق بڑھ گئی ہے جبکہ اس بار بھی راجستھان سے اونٹ وادی لائے گئے ہیں، جنہیں بڈگام اور دیگر اضلاع میں فروخت کیلئے رکھا گیا ہے۔ تاجروں کے مطابق بعض لوگ مشترکہ قربانی اور مذہبی ترجیحات کے پیش نظر اونٹ کی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اونٹ، جو کشمیر میں مقامی طور پر پائے نہیں جاتے، راجستھان اور ملحقہ علاقوں سے خصوصی طور پر لائے گئے ہیں۔ بڈگام سمیت کئی علاقوں میں سڑک کنارے عارضی فروخت مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں خریدار بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سال نقل و حمل اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث وادی میں محدود تعداد میں اونٹ لائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایک اونٹ کی قیمت 60 ہزار سے 75 ہزار روپے کے درمیان رکھی گئی ہے جبکہ بھیڑ اور دنبوں کی قیمتیں عموماً 10 ہزار سے 30 ہزار روپے یا اس سے زائد ہیں۔تاجروں نے بتایا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک اونٹ یا گائے میں سات افراد مشترکہ قربانی کر سکتے ہیں جبکہ بھیڑ یا بکرے کی قربانی ایک فرد کی طرف سے دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بعض خاندان مشترکہ طور پر اونٹ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔بڈگام کے ایک تاجرسبزار احمد کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں اونٹ کی قربانی کا رجحان بتدریج بڑھ رہا ہے، اگرچہ اب بھی زیادہ تر لوگ بھیڑ اور بکرے کی قربانی ہی کرتے ہیں۔عیدالاضحیٰ سے قبل وادی بھر کے مویشی بازاروں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور لوگ قربانی کیلئے جانور خریدنے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب محکمہ حیوانات کے حکام نے تاجروں اور خریداروں کو ہدایت دی ہے کہ جانوروں کی منتقلی، صحت اور دیکھ بھال سے متعلق تمام ضوابط پر عمل کیا جائے تاکہ عید کے دوران کسی قسم کی پریشانی پیش نہ آئے۔یو این ایس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اونٹوں کی آمد عیدالاضحیٰ کے موقع پر وادی میں ایک الگ کشش پیدا کرتی ہے اور بچے و بزرگ بڑی تعداد میں ان جانوروں کو دیکھنے کیلئے بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ کئی علاقوں میں اونٹ عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جبکہ لوگ تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں بھی دلچسپی دکھا رہے ہیں، جس سے عید سے قبل بازاروں میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
