0

نارکو-دہشت گردی اور منشیات جموں و کشمیر کے لیے سب سے بڑا خطرہ: ایل جی سنہا

انتظامیہ اس لعنت کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی؛ کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور بحالی کی کوششوں کا حوالہ

سرینگر، ۲۵ مئی : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کہا کہ نارکو-دہشت گردی اور منشیات کا استعمال مرکز کے زیرِ انتظام خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اور انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ اس لعنت کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

بانڈی پورہ کے ایس کے اسٹیڈیم میں ‘جے اینڈ کے نشہ مکت ابھیان’ کے تحت منعقدہ پدیاترا سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے، بہ حوالہ خبر رساں ادارے کشمیر نیوز آبزرور (کے این او)، کہا کہ پولیس اور انتظامیہ نے پورے خطے میں منشیات فروشوں اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

خواتین، طلباء، سول سوسائٹی کے اراکین، این جی اوز، مذہبی رہنماؤں اور دیگر شرکاء کی شرکت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس خطرے کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ گزشتہ ۴۵ دنوں میں تقریباً ۸۰۰ ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تقریباً ۹۵۰ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی آئی ٹی-این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت تقریباً ۸۵۰ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا: ”ہماری پولیس منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان سے منسلک جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ بھی ضبط کیے جا رہے ہیں۔”

سنہا نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میں نارکو-دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے لیے کوئی ”محفوظ پناہ گاہ” نہیں ہوگی، اور کہا کہ سپلائی چین کو توڑنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے منشیات کے عادی افراد کی مشاورت اور بحالی پر انتظامیہ کی توجہ کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا: ”منشیات کے جال میں پھنسے نوجوان خود بھی متاثرین ہیں، ان کی مشاورت اور بحالی کے ذریعے مدد کی جانی چاہیے۔ ہمیں اپنے مستقبل کی حفاظت کرنی ہے۔”

منشیات اور دہشت گردی کے درمیان مبینہ تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم اکثر دہشت گرد تنظیموں تک پہنچتی ہے، جس سے سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا: ”دہشت گردی اور منشیات کی وجہ سے بہت سے خاندان شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اسی لیے ہم جموں و کشمیر کو نشہ مکت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”

منشیات کے خلاف مہم کو محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک مشن قرار دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ عوام کی متحدہ شرکت منشیات فروشی اور دہشت گردی دونوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکتی ہے۔

بانڈی پورہ کے ایس کے اسٹیڈیم میں لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں منعقدہ پدیاترا میں اس مہم کے ایک حصے کے طور پر بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں