0

جموں میں مرکزی داخلہ سیکرٹری کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، انسداد دہشت گردی آپریشنز میں تیزی لانے کی ہدایت

جموں،14جنوری (یو این آئی) مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے بدھ کو جموں میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں یومِ جمہوریہ کے پیشِ نظر کیے جارہے سیکورٹی انتظامات، خطے میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور سرحدوں پر بڑھتی ڈرون سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مرکزی سکریٹری بدھ کی دوپہر دو روزہ دورے پر جموں پہنچے اور ہوائی اڈے سے سیدھے کنوینشن سینٹر روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، بارڈر سیکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل پروین کمار، سی آر پی ایف کے سربراہ جی پی سنگھ، جموں و کشمیر پولیس کے ڈی جی پی نالین پربھات اور فوج، پولیس، سول انتظامیہ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران یوم جمہوریہ کے موقع پر جموں و کشمیر خصوصاً جموں خطے میں سیکورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے متعدد اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ افسران نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیچھے ہتھیاروں، گولہ بارود یا منشیات کی اسمگلنگ کا شبہ ہے۔ انٹیلی جنس ان پٹس کے مطابق کئی دہشت گرد دھند اور خراب موسم کا فائدہ اٹھا کر دراندازی کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کی گئی ہے۔
میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جموں کے دشوارگزار جنگلات، اونچے پہاڑی سلسلوں اور دور دراز علاقوں میں گزشتہ کئی ماہ سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشنز جاری ہیں۔ سیکورٹی اداروں کے مطابق خطے میں تقریباً تین درجن دہشت گرد،جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں،اب بھی چھپے ہوئے ہیں جو گزشتہ دو برسوں کے دوران چوری چھپے داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سرحدی علاقوں میں بی ایس ایف کی تعیناتی، حساس مقامات پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اینٹی ڈرون سسٹمز کی تعداد میں اضافہ، اور فضا اور زمینی نگرانی کے مربوط نظام کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ اعلیٰ افسران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈرون کے ذریعے ہونے والی دراندازی اور اسمگلنگ موجودہ سیکورٹی چیلنجز میں سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے، جس کے لیے مؤثر، فعال اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی اپنانی ضروری ہے۔
میٹنگ میں یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل حساس اور نیم حساس مقامات پر ناکہ بندی، فیلڈ ڈومینیشن، موبائل پٹرولنگ اور رات کے وقت نگرانی میں اضافہ کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔ افسران نے کہا کہ شہری علاقوں میں بھی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور بغیر تصدیق کے کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مرکزی داخلہ سیکرٹری نے سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی سلامتی اور امن برقرار رکھنا حکومتِ ہند کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام ادارے باہمی تال میل کے ساتھ زمینی صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر بروقت کارروائی کو یقینی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں