سری نگر،18جنوری(یو این آئی) وادی کشمیر اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں بارشوں کا نظام اور برفباری کے معمولات سب کچھ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ چند برسوں کے دوران درجۂ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیوں، کم برفباری، بارشوں کی کمی اور طویل خشک سالی نے خطے کے قدرتی آبی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ وادی کے کئی علاقوں میں چشمے، ندی نالے اور چھوٹے آبی ذخائر سکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی تشویشناک حد تک نیچے جا رہی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سال برفباری معمول کے مطابق نہ ہوئی تو وادی کشمیر آنے والے مہینوں میں سنگین پانی کے بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، خشک موسم، گرتی ہوئی نمی اور درجۂ حرارت میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے قدرتی واٹر ریچارج کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ’یہ صورتحال محض موسمی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا اشارہ ہے۔ اگر فوری طور پر پانی کے تحفظ کے اقدامات نہ کیے گئے تو وادی کو زرعی، گھریلو اور پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
دیہی علاقوں میں صورتِ حال زیادہ سنگین نظر آتی ہے، جہاں پینے کے پانی کے ذرائع دن بدن سکڑتے جا رہے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار اپنے چشموں اور ندیوں کو اس قدر خشک ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ کئی دیہات میں خواتین کو پانی لانے کے لیے میلوں دور جانا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ آبی کمی نے فصلوں کے شیڈول اور زرعی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
محکمۂ جل شکتی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ خشک سالی کے سبب ضلع کولگام اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹینکروں کی مدد لے رہا ہے، مگر مسئلہ اتنا وسیع ہے کہ عارضی انتظامات کافی نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک برفباری اور بارشیں معمول پر نہیں آتیں، پانی کے ذرائع کا دباؤ کم نہیں ہو سکتا۔
ان حالات کے بیچ، جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک چونکا دینے والی صورتحال سامنے آئی ہے جہاں دریائے جہلم کی ایک اہم معاون شاخ، ویشو نالہ، مکمل طور پر خشک ہو گیا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اس نالے کو اس طرح خالی اور بے آب دیکھا ہے۔
ویشو نالہ، جو کئی دیہات کے لیے پینے کے پانی، آبپاشی اور روزمرہ ضروریات کا بنیادی ذریعہ تھا، اس کے مکمل خشک ہو جانے سے کم از کم پانچ بڑے واٹر سپلائی اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی کو مستقبل میں پانی کے محفوظ اور جامع نظام کی ضرورت ہے، ورنہ ایسے واقعات آنے والے برسوں میں معمول بن سکتے ہیں۔ عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
0
