جموں،29جنوری(یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کو صرف سرکاری ملازمتوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مرکز کی جانب سے ایک بڑے صنعتی پیکیج کی ضرورت ہے۔
جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ آنے والے یونین بجٹ میں جموں و کشمیر کے صنعتی شعبے کو نئی زندگی دینے کے لیے ایک جامع مراعاتی پیکیج فراہم کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق سنہ 1990 کے بعد سے جموں و کشمیر کو کسی بڑے مرکزی صنعتی ترغیبی پیکیج سے محروم رکھا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت مرکز کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے تاکہ ریاست کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنیاد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایسا پیکیج ملے جو نہ صرف پرانی صنعتوں کو دوبارہ فعال کرے بلکہ نئی سرمایہ کاری کو بھی ترغیب دے۔
عمر عبداللہ نے اس موقع پر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ سرکاری نوکریوں کی محدود گنجائش کے باعث نوجوانوں کو روزگار کے مواقع اسٹارٹ اَپس اور نجی شعبے میں تلاش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں کشمیری شال فروشوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے ریاستی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور ایسے ماحول میں کشمیریوں کو دوسرے صوبوں کا رخ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اسی لیے جموں و کشمیر کے اندر ایک مضبوط معاشی اور صنعتی ماحول کی تشکیل ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ سے جب صنعتی یونٹس کی بحالی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہر اس یونٹ کی مدد کرے گی جس میں دوبارہ سر گرم ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یونٹ بحال نہیں ہو سکتا تو مالکان کو نیا کاروبار شروع کرنے میں مدد دی جائے گی، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس یونٹ کے لیے مختص زمین واپس لے کر نئے سرمایہ کاروں کو دی جائے گی تاکہ صنعتی سرگرمیاں بغیر تعطل جاری رہ سکیں۔
عمر عبداللہ نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ناکامی سے خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ جدید کاروبار، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور سروس سیکٹر، تجربات اور ناکامیوں کے بغیر آگے نہیں بڑھتے۔ انہوں نے ایلون مسک جیسے عالمی کاروباری شخصیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ناکامی کو ایک سیکھنے کے مرحلے کے طور پر لینا چاہیے، کیونکہ اسٹارٹ اَپ دنیا میں یہی سوچ ترقی کا راستہ کھولتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ آنے والے دو سے تین سال میں حکومت سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم کو مؤثر طور پر عملی شکل دینے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو غیر ضروری کاغذی کارروائی اور تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے ذریعے کاروبار شروع کرنے کے عمل کو آسان بنایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو ریاست کے اندر ہی مواقع میسر آئیں۔
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی طیارہ حادثے میں موت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے شرد پوار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسے حادثہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس معاملے پر سیاست کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
0
