جموں،17فروری(یو این آئی)جموں و کشمیر اسمبلی میں آج پیش کیے گئے ایک تحریری جواب میں حکومت نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی ایکٹ جولائی 2017 میں سابق ریاست میں نافذ کیا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکس نظام کو ہم آہنگ، آسان اور شفاف بنانا تھا۔ حکومت کے مطابق جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ریاست میں ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے، جو 2017 کے 300 کروڑ روپے ماہانہ سے بڑھ کر مارچ 2025 تک 724 کروڑ روپے ماہانہ ہو چکی ہے۔
جواب میں کہا گیا کہ جی ایس ٹی نے ریاست کے ٹیکس ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی ہے، جس نے مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کو ختم کرکے ایک واحد قومی ٹیکس نظام قائم کیا۔ اس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کے لیے پیچیدہ عمل آسان ہوا بلکہ حکومت کے ٹیکس انتظامات میں بھی شفافیت اور تیزی آئی۔ رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ریفنڈ اور ای وے بل کے مکمل آن لائن نظام نے کاروباری طبقے کے لیے کئی سہولیات پیدا کیں۔
حکومت نے بتایا کہ ابتدائی دور میں چھوٹے تاجروں اور مینوفیکچررز کو آن لائن نظام اپنانے میں مشکلات پیش آئیں، مگر کمپوزیشن اور کیو آر ایم پی اسکیموں نے ان کے لیے بڑی حد تک آسانیاں پیدا کیں۔ علاوہ ازیں ہر ضلع میں قائم جی ایس ٹی سہولت مراکز نے رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور شکایات کے حل میں مقامی تاجروں کو مدد فراہم کی ہے۔
ہنڈی کرافٹ، باغبانی اور سیاحت جیسے اہم شعبوں کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ ہینڈی کرافٹس کو 2025 میں جی ایس ٹی کونسل نے 5 فیصد ٹیکس سلیب میں شامل کیا ہے، جس سے کشمیری شالیں اور دستکاری مصنوعات مزید مسابقتی بن گئی ہیں۔ باغبانی آمدنی مجموعی طور پر جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر ہے، تاہم گریڈنگ، پیکنگ اور ٹرانسپورٹ جیسی سرگرمیوں پر جی ایس ٹی لاگو رہتا ہے۔ سیاحت کے شعبہ میں انٹری ٹیکس کے خاتمے اور 7500 روپے سے کم ٹیرف والے ہوٹلوں پر 5 فیصد جی ایس ٹی نے صنعت کو فروغ دیا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی سے متعلق کسی بھی نئی اصلاحات کا فیصلہ جی ایس ٹی کونسل ہی کرتی ہے اور جموں و کشمیر کی سطح پر فی الحال کوئی نئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
جواب میں مزید بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کو پچھلے تین مالی سالوں کے دوران اس کا مکمل آئی جی ایس ٹی شیئر باقاعدگی سے موصول ہوا ہے، جبکہ جی ایس ٹی وصولی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
0
