سری نگر، 27 فروری (یو این آئی) سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے ہند – امریکہ تجارتی معاہدے کو یکطرفہ معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے جموں وکشمیر خاص طور پر کشمیر کی فروٹ انڈسٹری سخت متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بازاروں میں امریکی در آمدات کا پلڑا بھاری رہے گا۔ موصوف نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے پاس روزگار کے مواقع بہت کم رہ گئے ہیں، اس خطے میں انڈسٹریز نہ ہونے کے برابر ہیں، سرکاری نوکریاں بھی بہت کم ہیں، قالین اور شال جیسی صنعتیں تقریباً ختم ہوچکی ہیں جب کہ شعبہ سیاحت بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، زرعی سیکٹر خاص طور پر فروٹ انڈسٹری دیہی علاقوں میں روزگار کا سب سے بڑ وسیلہ ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جو حالیہ ہند– امریکہ تجارتی معاہدہ ہوا ہے، یہ معاہدہ یکطرفہ ہے اس سے امریکہ کے درآمدات کا بازار میں پلڑا بھاری رہے گا’۔
مسٹر تاریگامی نے کہا: ‘یہ معاہدہ ملک کی معیشت کے لئے نقصان دہ ہے اور اس سے جموں وکشمیر، ہماچل پردیش اور اترکھنڈ کی فروٹ انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو وہ سیب کاشتکاروں کو بہت زیادہ سبسڈی دیتا ہے جبکہ جموں وکشمیر، ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ کے سیب کاشتکاروں کو کوئی سبسڈی نہیں ملتی ہے بلکہ انہیں کھاد اور دیگر زرعی ادویات خاصی مہنگی ملتی ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس معاہدے سے سیب صنعت کو بڑے پیمانے پر خسارے کا امکان ہے کیونکہ جو در آمدات امریکہ سے آئیں گی ان پر صفر ٹیکس ہوگا اور امریکہ سے بڑی تعداد میں سیب، اخروٹ وغیرہ آنے کے امکانات ہیں’۔ رکن اسمبلی نے حکومت سے کے سی سی قرضہ معاف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا: ‘حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات سے متثرہ کسانوں کو کے سی سی قرضوں پر ایک مرتبہ ریلیف دیا جانا چاہئے’۔
ان کا کہنا ہے:’ کسانوں سے متعلق مسئلہ ہماری روز مرہ زندگی کو متاثر کرنے والا مسئلہ ہے، کسان کے نقصان سے ہماری معیشت ڈوب جائے گی’۔
مسٹر تاریگامی نے کہا: ‘ہم مشترکہ طور پر ہماچل پردیش، اترا کھنڈ اور جموں وکشمیر کی ایپل فیڈریشن ماہ مارچ میں دہلی میں احتجاجی دھرنا دیں گے اور ہم نے ملک کی دیگر بڑی کسان تنظمیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ہماری حمایت کریں’۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی سامنے آنے کی اپیل کی۔
0
