سری نگر،07دسمبر(یو این آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوار کو مرکز کی جموں و کشمیر پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہند کو فوری طور پر اپنی حکمتِ عملی کا جائزہ لے کر ایسی پالیسی اپنانا ہوگی جس سے یہاں کے لوگوں کو باوقار اور پرسکون زندگی میسر آسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق، سرکاری دعوؤں کے برعکس، وادی کے نوجوانوں میں بے چینی اور عدم اطمینان کو ظاہر کرتے ہیں، جسے صرف بات چیت اور مفاہمت کی جامع پالیسی کے ذریعے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد مرکز نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ حالات معمول کے مطابق ہیں اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھروں کی جگہ کتابیں اور کمپیوٹر آ گئے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی زندگی میں جو تلخی اور اضطراب محسوس ہوتا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملات ابھی بھی بے یقینی کے سائے میں دبے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور قومی سلامتی مشیر کو خود زمینی صورتحال کا سنجیدہ جائزہ لے کر یہ دیکھنا چاہیے کہ گزشتہ چند برسوں میں اختیار کی گئی سخت گیر پالیسیوں نے عوامی ذہنیت پر کیا اثر ڈالا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پی ڈی پی نے حال ہی میں مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کے ساتھ ایک عوامی مکالمے کا اہتمام کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ نوجوان نسل کو کن مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے واقعے، اور اس میں چند کشمیری تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ملوث ہونے کی خبریں، بحیثیت ماں انہیں ہلا کر رکھ گئیں۔ اسی وجہ سے، انہوں نے عوامی سطح پر براہِ راست گفتگو کا سلسلہ شروع کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ نوجوان کیوں زندگی کے بجائے موت کو چننے جیسے تباہ کن راستوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ محبوبہ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام کوئی آخری قدم نہیں بلکہ وہ جموں، کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی نوعیت کے جلسے اور مکالمے منعقد کریں گی۔
محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ کشمیری عوام عزت، امن اور مساوی حقوق کے ساتھ اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں، مگر مسلسل سخت قوانین جیسے یو اے پی اے، پی ایس اے، اور مختلف تفتیشی ایجنسیوں کی کارروائیوں نے خوف اور بے چینی کے ماحول کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے مرکز سے زور دے کر کہا کہ یہ وقت دباؤ اور سختی کا نہیں بلکہ اعتماد سازی اور مصالحت کا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ جموں و کشمیر میں دیرپا امن قائم ہو تو اسے لوگوں کے دل جیتنے کے لیے انصاف پر مبنی پالیسیاں اپنانی ہوں گی، نہ کہ طاقت کے سہارے معاملات چلانے ہوں گے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ مفاہمت کا عمل نہ صرف سیاسی ضرورت ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات، شمولیت اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہیں جو یہاں کے لوگوں کو اعتماد اور تحفظ دے سکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ مرکز کشمیری عوام کے حالات اور آواز کو سنجیدگی سے لے گا اور ایسی راستہ ہموار کرے گا جس سے جموں و کشمیر کے عوام اعتماد کے ساتھ، عزت اور سکون کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
0
