0

کبوتر بازی کا گہوارہ، شہرخاص میں ہر جمعہ و اتوار لگتا ہے کشمیر کا منفرد کبوتر بازار

سری نگر،3جنوری(یو این آئی) وادی کشمیر کے شہر سری نگر کے دل میں واقع تاریخی سرفواری گراؤنڈ آج بھی ایک ایسی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ جمعہ اور اتوار کی صبح جیسے ہی سورج شہر کی چھتوں کو چھوتا ہے، اس میدان میں کشمیر کا مشہور کبوتر بازار لگ جاتا ہے، جسے اہلِ کشمیر محبت سے ’کوتَر گودری‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف ایک مارکیٹ نہیں، ایک ثقافتی منظرنامہ ہے — جہاں شوق، روایت، خرید و فروخت، اور سماجی میل جول ایک ہی فضا میں گھل مل جاتے ہیں۔
کوتَر گودری کی روایت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دہائیوں سے نہیں، بلکہ نسل در نسل چلتی ایک پرانی روایت ہے جس کی جڑیں کشمیر کی تہذیبی تاریخ میں پیوست ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ سرفواری گراؤنڈ میں کبوتر فروش اس دور میں بھی آتے تھے جب شہر خاص کے بیشتر راستے کچی گلیوں پر مشتمل تھے۔
ستر سالہ غلام رسول ڈار، جو گزشتہ پچاس برس سے بازار آ رہے ہیں، مسکراتے ہوئے کہتے ہیں:’یہ بازار ہمارے بچپن کا حصہ تھا، آج بھی اسی محبت سے اسے دیکھتا ہوں۔ کبوتر صرف پرندہ نہیں… یہ شوق، پہچان اور روایت ہے۔‘
بازار میں جمعہ اور اتوار کے دن دور دور سے لوگ آتے ہیں — کچھ خریداری کے لیے، کچھ بیچنے کے لیے، اور کئی تو محض اس شوق کی دلکشی دیکھنے کے لیے۔ نوجوان، بزرگ، بچے — سبھی کی آنکھوں میں کبوتر اڑانے اور پالنے کی ایک الگ چمک دکھائی دیتی ہے۔
پلوامہ سے آنے والے نوجوان کبوتر باز فیضان احمد کہتے ہیں:’میں ہر اتوار یہاں آتا ہوں۔ الگ الگ نسلیں دیکھنا، ان کی قیمت سننا، اور دوسروں سے تجربہ شیئر کرنا… یہ ہمارے لیے ہفتہ وار خوشی ہے۔‘
بازار میں ہر نسل کے کبوتر ملتے ہیں —ہندوستانی، ایرانی، لاہوری، ہائی فلائر، ٹپے باز، اور کچھ انتہائی نایاب مقامی اقسام بھی، جن کی قیمتیں بعض اوقات ہزاروں روپے تک پہنچ جاتی ہیں۔
کبوتر بیچنے والے مشتاق لالہ، جو اس کام سے پچھلے 25 سال سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں:’کچھ کبوتر صرف 300 روپے کے بھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے کہ 15 ہزار میں بھی لوگ لینے کو تیار رہتے ہیں۔ نسل کی اڑان، جسمانی ساخت اور تربیت قیمت کا فیصلہ کرتی ہے۔‘
کوتَر گودری کی اصل خوبصورتی اس کے سماجی رنگ میں ہے۔ یہاں محفلیں جمتی ہیں، تجربے بانٹے جاتے ہیں، نئی نسل کو روایتی طریقوں سے کبوتر پالنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
بزرگ کبوتر باز چھوٹے بچوں کو ہاتھ میں کبوتر پکڑانے کا صحیح طریقہ سکھاتے نظر آتے ہیں، تو کہیں دو شوقین افراد نسلوں پر بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
نوہٹہ کے عرفان ملک کہتے ہیں:’یہ صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں، ایک خاندان جیسا ماحول ہے۔ یہاں آ کر ایسا لگتا ہے جیسے وقت پیچھے لوٹ گیا ہو۔‘
سرفواری گراؤنڈ میں ان دنوں خاص ہلچل ہوتی ہے۔ مختلف نسلوں کے کبوتر دیکھنے والوں کا رش، بیچنے والوں کی آوازیں، اور فضا میں پرواز بھرنے والے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ — سب مل کر ایسا سماں باندھ دیتی ہیں جو شہر خاص کو ایک منفرد ثقافتی مرکز بنا دیتی ہے۔
بازار کے ایک گوشے میں دو بزرگ کبوتر فروش آپس میں نسلوں کے ملاپ پر بات کر رہے ہوتے ہیں، تو دوسرے جانب نوجوان موبائل پر کبوتر کی ’فلائیٹ ویڈیو‘ دکھا کر قیمت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے — اور یہی اس روایت کی خوبصورتی ہے۔
کوتَر گودری کو اہلِ کشمیر صرف ایک ہابی کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ یہ ان کے سماجی ڈھانچے اور روایتی ورثے کا حصہ ہے۔ کبوتر بازی کو یہاں صدیوں سے عزت کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے، اور اب بھی یہ شوق پورے کشمیر میں اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے۔
ثقافتی محققین کا ماننا ہے کہ اس بازار نے شہر خاص کی قدیم شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’کبوتروں کا یہ بازار اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر کی روایات جدیدیت کے باوجود زندہ ہیں اور نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔‘
سری نگر کا ’کوتَر گودری‘ آج بھی ایک جیتی جاگتی روایت کی شکل میں قائم ہے۔ اگر آپ نے اسے قریب سے نہیں دیکھا، تو کسی جمعہ یا اتوار کی صبح سرفواری گراؤنڈ کا رخ ضرور کریں۔ممکن ہے —
آپ بھی ایک کبوتر شوق سے گھر لے جائیں… یا پھر اسی روایت کا حصہ بن جائیں جو صدیوں سے شہر خاص کے دل میں دھڑک رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں