سری نگر،8 جنوری (یو این آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی ہی خطے کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کی بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں الحاق کے وقت ریاست کو جو آئینی و جمہوری حقوق حاصل ہوئے تھے، اُن کی واپسی سے ہی عوام کا نئی دلی پر بھروسہ بحال ہوسکتا ہے اور مرکز و جموں کشمیر کے درمیان اعتماد، ترقی اور آشتی کا ماحول قائم ہوسکتا ہے۔
سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی نہ صرف یہاں کے عوام بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ ’جتنا جلدی یہ قدم اٹھایا جائے، اتنا ہی ملک اور جموں کشمیر کے مستقبل کے لیے بہتر ہوگا۔‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنجہانی مہاراجہ ہری سنگھ نے مرکز کے ساتھ جس بنیاد پر الحاق کیا تھا، انہی اصولوں پر چل کر ہی ریاست کی خوشحالی اور امن ممکن ہے۔
نیشنل کانفرنس کے منشور کا حوالہ دیتے ہوئے صدرِ پارٹی نے کہا کہ پارٹی ہر سطح پر ریاست کی وحدت، شناخت، انفرادیت اور آپسی ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے دن رات کام کر رہی ہے اور ریاستی درجے کی بحالی کے بعد انتظامی فعالیت اور لوگوں کو راحت پہنچانے کے اقدامات مزید مؤثر ہوں گے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت جموں، کشمیر اور لداخ—تمام خطوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھے گی اور ترقیاتی کام برابر بنیادوں پر انجام دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی بدحالی سے نکلنے اور ہمہ جہتی تعمیر و ترقی کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مفاد میں مزید اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے پارٹی عہدیداران اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے دستیاب رہیں اور پارٹی کی مضبوطی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں، کیونکہ ’پارٹی مضبوط ہوگی تو حکومت بھی مضبوط ہوگی۔‘
0
