جموں،26جنوری(یو این آئی) جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں سیکورٹی فورسز نے شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود دہشت گرد مخالف کارروائیوں میں کوئی نرمی نہیں برتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب علاقے میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد پوری بیلٹ میں سرچ آپریشن مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فوج، پولیس اور اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کی مشترکہ ٹیمیں گزشتہ ایک ہفتے سے چھاترو کے گھنے جنگلات اور پہاڑی ڈھلوانوں میں سرگرم تین پاکستانی دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں، جو مبینہ طور پر جیشِ محمد تنظیم سے وابستہ بتائے جا رہے ہیں۔ علاقے میں حالیہ برف باری نے سرچ آپریشن کو مزید مشکل بنا دیا ہے، لیکن فورسز نے ممکنہ فرار کے تمام راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی ہے تاکہ دہشت گرد علاقہ چھوڑنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
ذرائع کے مطابق اتوار کی دیر رات جنگلاتی حصے میں فورسز کی ایک ٹیم کو مشتبہ نقل و حرکت کا پتہ چلا جس کے فوراً بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ تاہم اندھیرا، دشوار گزار راستے اور برف کی وجہ سے فورسز نے انتہائی احتیاط کے ساتھ علاقے کا گھیراؤ مزید سخت کر دیا۔
چھاترو بیلٹ میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب فائرنگ یا مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی ہے۔ قبل ازیں 18 جنوری اور پھر 22 جنوری کو بھی اسی گروہ کی تلاش کے دوران جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں ایک پیرا ٹروپر شہید جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
انتظامیہ نے چھاترو، جنسیر، کندیواڑ اور متصل دیہات میں سیکورٹی مزید سخت کردی ہے، جبکہ ڈرون اور تھرمل امیجنگ آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی جاری ہے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ دہشت گرد علاقے میں ہی موجود ہیں اور جلد کسی بڑی پیش رفت کی توقع ہے۔
0
