سری نگر،21فروری(یو این آئی) وادی کشمیر اس وقت غیر معمولی موسمی صورتحال سے دوچار ہے جہاں فروری کے مہینے میں گرمی نے عشروں پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
گزشتہ دو دنوں کے دوران درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ نہ صرف عوام کے لیے حیران کن ہے بلکہ ماہرین موسمیات کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ماہر موسمیات فیضان عارف کینگ کے مطابق اس غیر معمولی گرم موسم نے وادی میں موسمیاتی تبدیلی کی شدت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
سرینگر میں گزشتہ روز درجہ حرارت 20.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 16 برسوں میں فروری کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل فروری کا آل ٹائم ریکارڈ 20.6 ڈگری تھا جو 24 فروری 2016 کو درج کیا گیا تھا۔ معمول سے 9.2 ڈگری زیادہ یہ درجہ حرارت سرینگر کی موسمی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے۔
اسی طرح مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جہاں 11.6 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا — جو کہ اب تک فروری میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے یہاں 11.4 ڈگری کا ریکارڈ 11 فروری 1993 اور دوبارہ 20 فروری 2026 کو قائم ہوا تھا۔ اس بار درجہ حرارت معمول سے 9.6 ڈگری زیادہ رہا، جو ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔
جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں بھی شدید گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ یہاں 21.0 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو فروری ماہ میں اب تک کا سب سے زیادہ ہے۔ سابقہ ریکارڈ 20.7 ڈگری تھا جو 28 فروری 2020 کو درج ہوا تھا۔ رواں سال درجہ حرارت معمول سے 10.9 ڈگری زیادہ درج کیا گیا۔
کوکرناگ میں بھی گرمی نے گزشتہ تمام ریکارڈ برابر کر دیے ہیں۔ یہاں 18.4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو 29 فروری 2016 کو قائم ہونے والے آل ٹائم فروری ریکارڈ کے برابر ہے، اور معمول سے 9.6 ڈگری زیادہ ہے۔
ماہر موسمیات فیضان عارف کینگ نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں گزشتہ دو روز کے دوران جو غیر معمولی موسمی پیٹرن دیکھا گیا، وہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور خطے میں تیزی سے بدلتی موسمی صورتحال کی واضح علامت ہے۔
ان کے بقول:’رواں ماہ کے آخر تک گرمی کی شدت میں ریکارڈ اضافہ متوقع ہے، اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مزید نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اس غیر معمولی گرمی کے اثرات ہاٹیکلچر اور ایگریکلچر سیکٹر پر براہ راست پڑ سکتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پھل دار درختوں میں موسم کی تبدیلی سب سے پہلے اثر دکھاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ ہفتوں میں بارش ہوتی ہے تو باغبانی شعبہ متاثر ہو سکتا ہے جبکہ بارش نہ ہونے کی صورت میں زرعی شعبہ خشکی کا سامنا کرے گا۔
وادی میں اچانک گرمی بڑھنے سے نہ صرف شہری حیران ہیں بلکہ کاشتکار اور باغ مالکان بھی تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ اس موسمی تبدیلی کے اثرات آنے والے سیزن میں پیداوار پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔ فی الحال محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں تک موسم خشک اور گرم رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
0
