جموں،27فروری (یو این آئی) جموں میں جمعہ کے روز یوتھ کانگریس کارکنوں نے بی جے پی دفتر کے نزدیک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، جس دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنوں کو احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا۔ احتجاج کا مقصد مرکزی حکومت کی مبینہ غیر شفاف پالیسیاں اور حزبِ اختلاف کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر آواز اٹھانا تھا۔
مظاہرے میں شریک نوجوان کارکن ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹر لیے مرکز مخالف نعرے بلند کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق احتجاج پُرامن تھا، تاہم پولیس نے سرگرمی بڑھنے اور سڑک بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر کئی کارکنوں کو وہاں سے ہٹا کر حراست میں لیا۔ اس موقع پر ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ بھی ہوا مگر بڑے واقعے سے قبل ہی صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔
کانگریس لیڈروں نے موقع پر موجود نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے انتظامیہ کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ایک کانگریس لیڈر نے کہا: ‘جب بھی کانگریس لیڈران یا ہمارے نوجوان مرکز کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں، انہیں فوری طور پر گرفتاریاں اور دھمکیاں ملتی ہیں۔ آج جموں میں بھی ہمارے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکا گیا، جو جمہوری قدروں کے خلاف ہے۔’
ایک اور یوتھ کانگریس رہنما نے کہا کہ کارکنوں کی گرفتاریوں سے ان کا حوصلہ کم نہیں ہوگا۔ ‘جب تک مرکزی سرکار ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیتی، تب تک یہ احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ ہم جمہوری حق استعمال کر رہے ہیں اور اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔’
کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نوجوانوں کے مسائل، بے روزگاری اور مہنگائی پر جواب دینے کے بجائے سیاسی دباؤ کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ یوتھ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں جموں و کشمیر سمیت ملک بھر میں مزید احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
0
