0

غزہ میں نسل کشی عالمی اخلاقیات پر سوالیہ نشان: جامع مسجد میں میرواعظ کا اہم خطاب

سری نگر،27 فروری (یو این آئی) رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ کے موقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ہزاروں فرزندانِ توحید کے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظِ کشمیرمولوی محمد عمر فاروق نے مشرقِ وسطیٰ کے مسلسل بگڑتے ہوئے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے فلسطین کے لیے فوری انصاف اور خطے میں پائیدار امن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے جاری ظلم و جبر نے فلسطینی عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بین الاقوامی احتساب کے فقدان نے اسرائیل کو مزید دلیر بنا دیا ہے اور وہ جانتے بوجھتے ہوئے اپنی غیر انسانی کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کو باقاعدہ شکل دینا، انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا اور غزہ میں جاری نسل کشی، عالمی قانون اور عالمی اخلاقیات کے لیے ایک بدترین دھبہ ہے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیلنے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی امن تک پھیل سکتے ہیں۔
کشمیر اور ایران کے دیرینہ ثقافتی و مذہبی روابط کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ بڑی تعداد میں کشمیری طلبہ ایران میں زیرِ تعلیم ہیں، جس کے باعث وہاں جنگی نوعیت کی صورتحال سے والدین اور اہلِ خانہ سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام، وہاں مقیم کشمیری طلبہ اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی۔
خطے کی دوسری صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں مسلم ممالک ماہِ مقدس میں آپس میں برسرِپیکار ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں