31 مئی کو دونوں جانب کے انجینئروں کی ’اندرونِ پہاڑ ملاقات‘ متوقع
لداخ کیلئے ہر موسم میں رابطہ فراہم کرنے والا منصوبہ تاریخی سنگ میل کے قریب
سرینگر//17مئی// سری نگر،لیہہ قومی شاہراہ پر زیر تعمیر اسٹریٹجک زوجیلا ٹنل منصوبہ ایک اہم سنگ میل کے قریب پہنچ گیا ہے اور حکام کے مطابق اس ماہ کے آخر تک ٹنل کی کھدائی میں ”پیش رفت“ حاصل ہونے کی امید ہے، جس کے بعد کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی۔منصوبے سے وابستہ حکام نے بتایا کہ زوجیلا ٹنل کے کشمیر اور لداخ دونوں اطراف سے کام کرنے والے انجینئر اور مزدور 31 مئی کو زیرِ زمین ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ تعمیراتی کمپنی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے مطابق 13.153 کلومیٹر طویل مین ٹنل ٹیوب کی کھدائی آخری ہفتہ مئی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔یو این ایس کے مطابق کمپنی کے ایک سینئر پروجیکٹ افسر نے بتایا کہ گاندربل کے بالتل اور دراس کے منی مرگ کی جانب سے جاری کھدائی کے درمیان اب صرف 140 میٹر چٹان باقی رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا، ”کام مسلسل جاری ہے، اگر موسم سازگار رہا تو 31 مئی کو دونوں ٹیمیں پہاڑ کے اندر ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی۔“حکام نے واضح کیا کہ بریک تھرو ایک علامتی اور اہم مرحلہ ضرور ہوگا، تاہم منصوبہ مکمل ہونے کیلئے اس کے بعد بھی کئی بڑے کام باقی رہیں گے، جن میں ٹنل لائننگ، سڑک بچھانا، الیکٹرو مکینیکل نظام، وینٹی لیشن اور حفاظتی نظام کی تنصیب شامل ہے۔زوجیلا ٹنل مکمل ہونے کے بعد زوجیلا پاس عبور کرنے میں لگنے والا وقت تین گھنٹے سے کم ہو کر محض 15 منٹ رہ جائے گا، جس سے لداخ، دراس اور کرگل جیسے سرحدی علاقوں تک سال بھر رسائی ممکن بن سکے گی۔ فوجی حکام کے مطابق اس سے فوجی ساز و سامان اور رسد کی ترسیل میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔منصوبے پر کام کرنے والے مقامی مزدور اور ٹھیکیدار، جن میں کرگل اور گاندربل کے افراد بھی شامل ہیں، شدید سردی، کم آکسیجن اور دشوار گزار حالات کے باوجود دو شفٹوں میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ سونہ مرگ کے قریب زیڈ،موڑ ٹنل پہلے ہی فعال ہو چکی ہے اور زوجیلا ٹنل کی تکمیل کے بعد لداخ کیلئے ہر موسم میں رابطے کا آخری بڑا خلائبھی ختم ہو جائے گا۔14.5 کلومیٹر طویل زوجیلا ٹنل منصوبہ 6808.69 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ انجام دے رہی ہے۔ منصوبہ فروری 2028 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔اس ٹنل میں جدید انجینئرنگ خصوصیات شامل کی گئی ہیں، جن میں ہر 750 میٹر پر لے-بائز، تین وینٹی لیشن شافٹس اور جدید حفاظتی نظام شامل ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔حکام کے مطابق کھدائی کیلئے نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ استعمال کیا گیا، تاہم بعض مقامات پر کمزور چٹانی ساخت اور دشوار گزار جغرافیہ نے کام کی رفتار متاثر کی۔دنیا کے مشکل ترین پہاڑی علاقوں میں تعمیر ہونے والی یہ ٹنل مکمل ہونے کے بعد بھارت کی سب سے طویل روڈ ٹنل اور ایشیا کی سب سے لمبی دو طرفہ ٹریفک والی ٹنل بن جائے گی۔وزیراعظم نریندر مودی نے مئی 2018 میں اس منصوبے کا افتتاح کیا تھا جبکہ 2020 میں یہ منصوبہ میگھا انجینئرنگ انفراسٹریکچر لمیٹیڈکے سپرد کیا گیا۔ ابتدائی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باعث تعمیراتی کام 2021 میں باقاعدہ طور شروع ہو سکا۔
