سرینگر//17مئی// کشمیر میں ایک ایسی پیچیدہ اور کم سمجھی جانے والی بیماری تیزی سے توجہ کا مرکز بن رہی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی لیکن متاثرہ افراد کی زندگی کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ فائبرو مائیلجیا نامی یہ اعصابی بیماری مسلسل جسمانی درد، شدید تھکن، نیند کی خرابی اور ذہنی دباو ¿ کا باعث بنتی ہے، جبکہ اس کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے سبب مریض برسوں تک ذہنی اور جسمانی اذیت جھیلنے پر مجبور رہتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق فائبرو مائیلجیا ایک دائمی اعصابی عارضہ ہے جس میں دماغ اور اعصابی نظام درد کے سگنلز کو غیر معمولی طور پر زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین اسے “سنٹرل سینسٹیائزیشن” قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں معمولی تکلیف یا بغیر کسی جسمانی نقصان کے بھی مریض شدید درد محسوس کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی سب سے بڑی مشکل اس کی تشخیص ہے کیونکہ عام میڈیکل ٹیسٹ، ایکسرے یا خون کی رپورٹس اکثر نارمل آتی ہیں۔ اسی وجہ سے کئی مریض مختلف اسپیشلسٹس کے چکر لگاتے رہتے ہیں لیکن برسوں تک انہیں مرض کی درست شناخت نہیں مل پاتی۔ماہر درد طب ڈاکٹر آفان قاضی کے مطابق کشمیر میں خاص طور پر خواتین میں اس بیماری کے کیسز بڑھ رہے ہیں، تاہم آگاہی کی کمی کے باعث بیشتر مریض مناسب علاج سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر مریضوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ان کا مسئلہ صرف ذہنی دباو ¿ ہے، جس سے ان کی تکلیف مزید بڑھ جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2 سے 4 فیصد آبادی اس بیماری سے متاثر ہے جبکہ خواتین میں اس کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔ کشمیر جیسے خطے میں طویل سرد موسم، محدود جسمانی سرگرمیاں، ذہنی دباو ¿، وٹامن ڈی کی کمی اور سماجی مسائل اس بیماری کے پھیلاو ¿ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق فائبرو مائیلجیا کے مریضوں میں مسلسل جسمانی درد، پٹھوں کی اکڑاہٹ، شدید تھکن، سر درد، بے خوابی، اضطراب، ڈپریشن اور یادداشت و توجہ کی کمزوری جیسے مسائل عام ہوتے ہیں۔ بعض مریض “فیبرو فوگ” کا شکار بھی ہو جاتے ہیں جس میں ذہنی یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔ماہرین نے واضح کیا کہ اس بیماری کو عام جوڑوں کے درد یا آرتھرائٹس سمجھنا غلط ہے کیونکہ اس میں جسمانی سوزش نہیں ہوتی بلکہ اعصابی نظام غیر معمولی حساس ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق صرف درد کم کرنے والی ادویات کافی نہیں بلکہ مریض کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی سطح پر جامع علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلکی ورزش، روزانہ واک، اسٹریچنگ، آبی تھراپی، متوازن غذا اور بہتر نیند فائبرو مائیلجیا کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ نفسیاتی علاج، خاص طور پر “سی بی ٹی” اور ذہنی دباو ¿ کم کرنے والی تکنیکیں بھی علاج کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق بعض مریضوں میں جدید درد کم کرنے والی تکنیکیں جیسے نرو بلاکس، ٹرگر پوائنٹ انجیکشن اور نیورو موڈیولیشن تھراپی بھی استعمال کی جا رہی ہیں، تاہم کشمیر میں ایسے خصوصی علاجی مراکز کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔صحت ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فائبرو مائیلجیا اگرچہ جان لیوا بیماری نہیں، لیکن یہ مریضوں کی روزمرہ زندگی، ملازمت، گھریلو ذمہ داریوں اور ذہنی سکون کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت اور صحت اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں خصوصی درد کلینکس، تربیت یافتہ طبی عملہ اور مربوط علاجی نظام قائم کیا جائے تاکہ اس خاموش مگر پیچیدہ بیماری سے متاثر افراد کو بروقت تشخیص اور بہتر علاج فراہم کیا جا سکے۔
0
