سرینگر : لداخ کے دشوار گزار پہاڑی علاقہ تانگتسے، جو لیہہ کے قریب واقع ہے، میں بھارتی فوج کا ایک چیتا (Cheetah) ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہوگیا۔ اس حادثہ میں سوار تین فوجی افسر معجزانہ طور پر محفوظ رہے اور انہیں صرف معمولی چوٹیں آئیں۔ فوجی حکام کے مطابق حادثہ بدھ کے روز پیش آیا تھا، تاہم اس کی تفصیلات ہفتہ کو منظر عام پر آئیں۔
حکام نے بتایا کہ سنگل انجن والا یہ چیتا ہیلی کاپٹر ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر اڑا رہے تھے، جبکہ تھرڈ انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ بھی بطور مسافر ہیلی کاپٹر میں موجود تھے۔ حادثہ انتہائی دشوار گزار اور برفانی پہاڑی علاقے میں پیش آیا، جس کے باوجود تینوں افسر زندہ بچ گئے۔ فوجی حکام نے اس واقعہ کو ’’کسی معجزہ سے کم نہیں‘‘ قرار دیا۔
حادثہ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر کسی تکنیکی خرابی یا موسمی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جارہا، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر بھارتی فوج کے زیر استعمال پرانے چیتا اور چیتک ہیلی کاپٹروں کی حفاظت اور کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر خاص طور پر لداخ، سیاچن اور دیگر بلند پہاڑی علاقوں میں فوجی آپریشن اور رسد رسانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج آئندہ ایک سے دو برسوں میں ان پرانے ہیلی کاپٹروں کو مرحلہ وار ہٹانے کا منصوبہ رکھتی ہے اور ان کی جگہ جدید ’’لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر‘‘ شامل کیے جائیں گے۔ یہ عمل فوجی فضائیہ کو جدید بنانے کی وسیع مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت آئندہ آٹھ سے دس برسوں میں تقریباً 250 نئے ہیلی کاپٹر شامل کیے جانے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق فوج اس سلسلہ میں دوہری حکمت عملی اختیار کرے گی۔ ایک جانب بھارت میں تیار کیے گئے لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر شامل کیے جائیں گے، جبکہ فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے بعض ہیلی کاپٹر لیز پر بھی حاصل کیے جائیں گے۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے ماضی میں بھارتی فوج کے لیے 625 چیتا اور چیتک ہیلی کاپٹر تیار کیے تھے۔ اگرچہ (ایچ اے ایل) اب ان ہیلی کاپٹروں کی تیاری نہیں کرتا، تاہم کمپنی اب بھی موجودہ بیڑے کی مرمت اور دیکھ بھال انجام دے رہی ہے۔
چیتا ہیلی کاپٹر کی تیاری کے لیے (ایچ اے ایل) نے 1970 میں فرانسیسی ایرواسپیس کمپنی ’’ایروسپیشیال‘‘ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، جبکہ چیتک ہیلی کاپٹر کے لیے 1962 میں فرانسیسی کمپنی ’’سڈ ایوی ایشن‘‘، جو اب ایئربس کا حصہ ہے، کے ساتھ اشتراک کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق بھارتی فوج اور فضائیہ کی جانب سے کم از کم 187 نئے لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹروں کے آرڈر متوقع ہیں۔ فوج پہلے ہی محدود تعداد میں چھ نئے ہیلی کاپٹر حاصل کرچکی ہے۔ یہ جدید ہیلی کاپٹر 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتے ہیں، ان کی پرواز کی بلندی 6.5 کلومیٹر اور آپریشنل رینج 350 کلومیٹر تک ہے۔
