سرینگر، 23 مئی: لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے شوپیاں میں نشہ مکت جموں کشمیر پدیاترا میں شرکت کی، جہاں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے عہد کیا کہ نارکو دہشت گردوں کو مرکزی علاقے کے ہر کونے سے نکال باہر کیا جائے گا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اجتماعی عزم ایک نئے دور کی فجر کا پیغام ہے۔ یونین ٹیریٹری کی ہر گلی اور کوچے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ایک بھی منشیات اسمگلر کو نہ بخشا جائے۔ جو تحریک 43 روز قبل جموں سے شروع ہوئی تھی وہ آج ایک ناقابل روک طاقتور عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایک مقصد اور ایک مشترکہ ہدف کے ساتھ جموں کشمیر کے لاکھوں لوگ اس جنت ارضی سے نارکو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بات ہمارے عوام کے ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہے کہ یہ کوئی دور کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ چیلنج ہمارے اپنے دروازے پر کھڑا ہے جس کا مقابلہ ہمیں ہمت اور حوصلے سے کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کا زہر ہمارے نوجوانوں کو ترقی کی راہ سے بھٹکا رہا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں منشیات کی آمدنی سے ہتھیار خریدتی ہیں اور انہی ہتھیاروں سے عام کشمیریوں کا خون بہایا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ خواہ کوئی سرکاری افسر ہو یا عوامی زندگی سے وابستہ کوئی بھی شخص، اگر اس کا منشیات کے نیٹ ورک سے کسی بھی طرح تعلق ثابت ہوا تو اسے سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ اگر اس وبا کا ذرا سا بھی اثر ہمارے نظام میں سرایت کر گیا ہے تو اسے بلا تامل ختم کر دیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ گزشتہ 43 دنوں میں 797 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور 894 منشیات اسمگلروں اور پیڈلروں کو جیل بھیجا گیا۔ پی آئی ٹی این ڈی پی ایس قانون کے تحت 59 اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ کالے دھن سے بنی 81 نارکوٹک حویلیاں منہدم کی گئیں۔ 101 غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی گئیں۔ 457 ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے۔ 22 اسمگلروں کے پاسپورٹ اور 606 گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارشات کی گئیں۔ 5641 دواخانوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 268 کے لائسنس معطل یا منسوخ کیے گئے اور 6 دواخانوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں کشمیر میں 7000 سے زائد خواتین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور انتظامیہ ان کمیٹیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نشے کے عادی نوجوانوں کے لیے ایک جامع بازآبادکاری پالیسی تیار کی جا رہی ہے تاکہ انہیں روزگار فراہم کر کے معاشرے کی مرکزی دھارے میں واپس لایا جا سکے۔
