0

کشمیر میں پلاسٹک آلودگی قابو سے باہر

ماحول، صحت اور سیاحت ایک ساتھ بحران کی زد میں
ہر سال ہزاروں ٹن کچرا جھیلوں اور دریاو ¿ں کا رخ کر رہا ہے، ماہرین کا سخت انتباہ

سرینگر//12فروری// یو این ایس دنیا بھر میں ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کی بات ہو رہی ہے، وہیں کشمیر وادی میں پلاسٹک آلودگی کی نئی اور چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر نے مالی سال 2023-24میں 1.46 لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا کیا، جو کہ گزشتہ برس کی نسبت 21 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین ماحولیات خبردار کر رہے ہیں کہ پلاسٹک نے نکاسی آب کے نظام کو بری طرح متاثر کر کے جھیلوں اور ندیوں کا دم گھونٹ دیا ہے، جس سے کشمیر کے نازک ماحولیاتی توازن پر سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔سال 2019 سے لے کر اب تک جموں و کشمیر میں کل 2.25 لاکھ میٹرک ٹن پلاسٹک کچرا جمع ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس میں سے 77,200 ٹن کو ری سائیکل کیا گیا اور 19.33 ٹن ممنوعہ سنگل یوز پلاسٹک ضبط کی گئی، لیکن ہر سال تقریباً 51,000 ٹن نیا پلاسٹک پیدا ہو رہا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 31,000 ٹن صرف کشمیر میں، براہ راست جھیلوں اور دریاو ں میں جا رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہمالیائی خطے کی مخصوص جغرافیائی ساخت،جہاں نالے اور ندی نالے جلدی جھیلوں میں گرتے ہیں،کے سبب پلاسٹک فضلہ بہت تیزی سے ڈل،ولر اور جہلم جیسے پانی کے ذخائر تک پہنچتا ہے۔یو این ایس کے مطابق معروف ماحولیاتی کارکن اور کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یوسف چاپری نے پلاسٹک آلودگی کو سیاحت کیلئے مہلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی پلاسٹک بیگ جھیل ڈل میں تیرتا ہوا نظر آتا ہے، وہ اگلے دن کیلئے ایک سیاح کم ہونے کا اشارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کشمیر کو ایک خوبصورت، قدرتی صحت گاہ کے طور پر دیکھتی ہے، مگر جب سیاح جھیلوں میں تیرتے کچرے کو دیکھتے ہیں تو وہ واپسی کا ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے نازک خطے میں خوبصورتی کی حفاظت کیلئے اتنا ہی نازک اور محتاط طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، ”چیلنج یہ ہے کہ وادی کی نازک خوبصورتی کے ساتھ ایک مضبوط شہری شعور پیدا کیا جائے۔اس سے پہلے کہ اگلا پلاسٹک سیلاب سب کچھ بہا لے جائے“ماہر قانون و ماحولیات ایڈوکیٹ سلیمان سلاریہ، جو جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں، نے کہا کہ کشمیر کی جھیلیں”واقعی سانسیں بند کر رہی ہیں“ اور اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو ماحولیاتی تباہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہر پولی تھین بیگ جو کسی نالے کے ذریعے گزر جاتا ہے، وہ بالآخر دال یا جہلم میں پہنچتا ہے اور وہاں صدیوں تک برقرار رہتا ہے۔سلاریہ نے مزید کہا کہ جب تک میونسپل ادارے 100 فیصد گھر گھر علیحدہ کوڑا جمع کرنے کا نظام نہیں اپناتے، عدلیہ کو سخت مداخلت کرنا پڑے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں پلاسٹک آلودگی کا آغاز 1980 کی دہائی کے بعد ہوا، جب جوٹ اور اخبار و کاغذسے بنے تھیلوں کی جگہ 1990 کے بعد سستے پولی تھین بیگوں نے لے لی۔ جموں میں پلاسٹک فیکٹریوں کے قیام نے اس سلسلے کو صنعتی شکل دی، جس کے نتائج آج وادی بھگت رہی ہے۔چاپری نے اس تبدیلی کو ”ماحولیاتی لعنت“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تباہ کن تجارتی فیصلہ تھا جس نے قدرتی ماحول کی جڑیں ہلا دیں۔سابق قانون ساز اشوک شرما، جو قانون سازیہ کی ماحولیاتی کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ کہ جھیل دال کی سطح 22 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر 18 مربع کلومیٹر تک سکڑ چکی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پلاسٹک آلودگی اور پانی میں نباتاتی مواد کا غیر معمولی بڑھاو (یوٹرو فیکیشن) ہے۔یو این ایس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جموں و کشمیر میں اس وقت 43 پلاسٹک فضلہ مینجمنٹ یونٹس اور 32 منرل ریکوری مراکز کام کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ مسئلہ کا حل صرف ری سائیکلنگ نہیں بلکہ مکمل خاتمہ ہے۔انہوں نے کئی اہم اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں 1989 سے پہلے کے جوٹ اور کاغذی تھیلوں کے نظام کی بحالی، کم مائیکرون بیگوں پر سخت بارڈر چیکنگ، تعلیمی اداروں میں سالانہ کچرا آڈٹ، نالوں کی نقشہ سازی کے ساتھ’ٹریپ باسکٹس‘ کی تنصیب، اور ہر میونسپل ادارے کی ماہانہ فضلہ رپورٹ شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہم شہری سطح پر جواب دہی اور نگرانی کو مو ثر نہیں بنائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں