0

گداگری :مجبوری،پیشہ ورانہ عمل یا مافیا کاکھیل؟

سری نگر :۱۲،فروری : آپ کسی مسجد یا درگاہ میں نماز ادا کرنے جائیں ،یا حاضری دینے کی غرض ،عباد ت گاہ کے باہر یا سیڑھیاں چڑھتے آپ کو یہ مخصوص دعائیں ضرور سننے کو ملتی ہیں”صاحب :آپ کی جوڑی سلامت رہے،آپ کے بچے جئیں،آپ کواللہ اور ترقی دے“ ۔اوربعض اوقات بہن بھائی بھی اکٹھے چل رہے ہوں تو بھکاری اُن کیلئے بھی یہی دعا کردیتے ہیں کہ اللہ !آپ کی جوڑی کو سلامت رکھے،اوربہن بھائی کیلئے یہ صورتحال شرمندگی کاباعث بن جاتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ایسی ہی صورتحال کا سامنا عام لوگوںکو اب روزنہ کی بنیادپر تمام مصروف جگہوں بشمول بازاروں ،پگڈنڈیوں ،پلوں اوربس اسٹینڈوں پر بھی کرنا پڑتاہے ،اور حتیٰ کہ گلی فروشوں کی طرح ہی گداگروں یا بھکاریوںنے اپنی اپنی جگہیں مقرر کررکھی ہوتی ہیں ،جہاںکوئی دوسرا بھکاری نہیں بیٹھ سکتاہے۔روس کے ایک دانشور سے منصو ب ہے کہ جب وہ تحقیق کیلئے بھکاری بن گیا تواُس نے دیکھاکہ لوگوںکی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کیلئے کچھ اچھی باتیں اور دعائیں یادکرنی ہیں ،اور یہی بھکاری کی Investmentہوتی ہے اور اسکے بدلے بھکاری کا Outputیعنی اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے ۔روسی دانشور کے مطابق اُس کو بھکاریوں پرتحقیق کے دوران بھکاری بننا ایک ایسا منافع بخش کاروبار یا بغیر محنت ومشقت کے کام لگا کہ وہ کچھ وقت تک بھکاری ہی بنارہا۔اور بمشکل اس کا م سے واپس لوٹ آیا۔اب جبکہ ماہ ماہ مقدس شروع ہواہے توماہ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں عبادات، خیرات اور ہمدردی کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں بعض عناصر اس بابرکت مہینے کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مساجد، درگاہوں ودیگرعبادتگاہوں، پیٹرول پمپوں، سرکاری و نجی دفاتر کے باہر اور گلی کوچوں میں بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔پانچوں اوقات کی نماز میں مساجد اور درگاہوں کے باہر منظم انداز میں بھیک مانگنے والے گروہ جمع ہو جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر خواتین اور چھوٹے بچوں کو بھی اس مقصد کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف سماجی مسئلہ ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے نام پر استحصال کی ایک صورت بھی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ ہجوم بعض اوقات رقم طلب کرنے کے لئےپیچھے پڑ جاتا ہے اور انکار کی صورت میں بدتمیزی یا ہراسانی کا رویہ بھی اختیار کرتا ہے۔ذی شعور افراد کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں عبادت گاہوں کے باہر بھکاریوں کی بڑھتی تعداد جن میں خاصی تعداد غیر ریاستی بھکاریوں کی ہوتی ہے، ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اس ماہ میں جھنڈ کی صورت میں یہ گداگراچانک کہاں سے نمودار ہوتے ہیں، ان کو کون یہاں لاتا ہے، ایک منظم مافیہ گروہ بھی اس کے پیچھے ہو سکتا ہے، بد قسمتی سے اس طرف انتظامیہ کا کوئی دھیان نہیں ہے، اس لیے انتظامیہ کو اس پر غور کرانا چاہیے، کیونکہ ان کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے بلکہ مستحق افراد بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔علمائے دین کا کہنا ہے کہ رمضان سخاوت اور ضرورت مندوں کی مدد کا مہینہ ہے، لیکن پیشہ ور بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اصل مستحقین کے حق پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ذی شعور افراد کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ منظم بھیک مانگنے والے گروہوں کےخلاف کارروائی کرے اور حقیقی مستحق افراد کی شناخت کے لئے موثر نظام وضع کرے۔ ساتھ ہی عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی زکوٰة و صدقات معتبر فلاحی اداروں کے ذریعے تقسیم کریں تاکہ امداد صحیح ہاتھوں تک پہنچ سکے۔ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف شہری زندگی میں خلل کا باعث بنے گا بلکہ معاشرتی نظم و ضبط پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ رمضان کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی شعور اور انتظامی سنجیدگی ناگزیر ہے۔ذرائع کے مطابق ان بیرون ریاستی گدا گروں کا ایک ٹھیکیدار ہوتا ہے جو ہر روز شام کے بعد گدا گروں سے دن بھر بھیک سے اکٹھےکئے گئے پیسوں کا حساب لیتا ہے،جس کے عوض بھکاریوں کو یومیہ اجرت، کھانا ،رہائش فراہم کئے جاتے ہیں۔ گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی وادی کشمیر میں غیر ریاستی بھکاریوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔،جس دوران وادی کے سبھی اضلاع میں گداگر مقامی لوگوں کو کافی پریشان کر تے رہتے ہیں۔بھیک مانگنے کےلئے یہ گداگر مختلف جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں جن میں ہسپتال ،پیٹرول پمپ، مساجد، درگاہ، ٹریفک سگنلز، دفاتر، گنجان بازار شامل ہیں۔ غیر ریاستی گداگر ان تمام جگہوں پر اپنے مقررہ وقت پر پہنچ جاتے ہیں ،جس دوران یہ گاڑی والوں، راہگیروں خاص کر ضعیف العمر افراد اور خواتین کو اپنی حالت زار مختلف انداز میں پیش کرکے انہیں تنگ طلب کرکے پیسے وصول کرتے ہیں۔وہیں گداگر اسکولوں اور کالجز کے باہر طلبہ کو کافی پریشان کرتے ہیں اور انہیں پیسوں کے لئے مجبور کرتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ یہ گداگر خاص کر دوپہر کے اوقات میں مختلف بستیوں کا رخ کرتے ہیں جب مرد مختلف کام کاج کے سلسلہ میں اپنے گھروں سے باہر ہوتے ہیں، بھکاری گھروں میں موجود خواتین کو مختلف حربوں کے ذریعہ ان سے نقدی و دیگر قیمتی اشیاءوصول کرلیتے ہیں۔کشمیر وادی میںگرمیوں کا موسم ان بھکاریوں کےلئے ایک سیزن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان ایام کے دوران یہ گداگر ہزاروں کی تعداد میں وادی کا رخ کرتے ہیں اور وادی کے مختلف علاقوں میں پھیل جاتے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ گداگر بھیک مانگنے کی جگہوں کو تقسیم کرتے ہیں اور گداگر ایک دوسرے کے علاقہ میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ذرائع کے مطابق یہ ایک معافیہ ہے، ان گدا گروں کا ایک ٹھیکیدار ہوتا ہے جو ہر روز شام کے بعد گداگروں سے دن بھر بھیک سے اکٹھے کئے گئے پیسوں کا حساب لیتا ہے،جس کے عوض بھکاریوں کو یومیہ اجرت، کھانا ،رہائش فراہم کیا جاتا ہے۔وہیں وادی میں بھکاریوں کی بھرمار پر عوامی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں بھکاریوں کی بڑھتی تعداد سنگین نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ بھکاری سیاحتی سیزن میں وادی میں وارد ہوتے ہیں، جس سے سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، وہیں گداگر یہاں کی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔انہوں نے انتظامیہ سے غیر ریاستی بھکاریوں کی روک تھام کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرکے معاملہ کا ازالہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں