0

نائب صدر سی پی رادھا کرشنن دو روزہ دورے پر کشمیر پہنچ گئے

کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن میں شرکت، سری نگر میں سخت سیکورٹی و ٹریفک انتظامات نافذ

سرینگر//25فروری//یو این ایس نائب صدر ہند سی پی رادھا کرشنن بدھ کی شام دو روزہ سرکاری دورے پر کشمیر پہنچ گئے۔ وہ بڈگام ایئرپورٹ پر اترنے کے فوراً بعد سخت سیکورٹی حصار میں زبرون پہاڑیوں میں واقع لوک بھون روانہ ہوئے، جہاں ان کی قیام گاہ مقرر کی گئی ہے۔ یہ ان کا بطور نائب صدر وادی کشمیر کا پہلا دورہ ہے، جسے انتظامی اور تعلیمی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابقنائب صدر جمعرات کی صبح حضرت بل میں قائم کشمیر یونیورسٹی کا دورہ کریں گے، جہاں وہ یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، تحقیق، اختراع اور قومی ترقی میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس تقریب میں سینئر سول و پولیس افسران، اکیڈمک کونسل کے ارکان، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ کانووکیشن کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے کیمپس میں خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔اعلیٰ سطحی دورے کے پیش نظر سری نگر شہر اور مضافاتی علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ منگل کو بڈگام ایئرپورٹ سے حضرت بل تک کے روٹ پر ایک جامع ڈرائی رن کیا گیا تاکہ نائب صدر کے قافلے کی نقل و حرکت کو ہموار اور محفوظ بنایا جا سکے۔ینئر پولیس افسران نے خود سیکیورٹی پلان کا جائزہ لیا اور مختلف حساس مقامات پر نفری کی تعیناتی کو یقینی بنایا۔ اہم چوراہوں پر اضافی ناکے قائم کیے گئے ہیں جبکہ یونیورسٹی کیمپس، حضرت بل اور اطراف کے علاقوں میں تلاشی اور نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل کے ساتھ نگرانی کے نظام کو بھی فعال بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو بروقت روکا جا سکے۔ٹریفک پولیس سری نگر نے 26 فروری کے لیے خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اعلامیے کے مطابق بڈیار چوک اور گپکار کے راستے نشاط، شالیمار اور ہارون کی جانب عام ٹریفک کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح رام منشی باغ سے گرینڈ پلیس کی طرف ٹریفک معطل رہے گی اور گاڑیوں کو ڈل گیٹ، سنگرمل اور اخوان چوک کی طرف موڑا جائے گا۔ڈل گیٹ، خیام، خان یار، رینہ واری، سعید کدل اور حضرت بل روڈ پر بھی مخصوص اوقات میں ٹریفک کی نقل و حرکت محدود رہے گی۔ شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔نائب صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جموں و کشمیر میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو قومی دھارے میں مو ¿ثر کردار ادا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ان کی شرکت کو نہ صرف تعلیمی برادری کے لیے حوصلہ افزا سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان ادارہ جاتی روابط کے استحکام کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق دورے کے دوران سیکیورٹی اور انتظامی ادارے مکمل طور پر الرٹ رہیں گے اور تمام تقریبات کو پ ±رامن اور منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں