چنئی، 7 مئی (یو این آئی) تمل ناڈو میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے والی ‘تملگا ویٹری کژگم’ (ٹی وی کے) کے سربراہ سی جوزف وجے کو حکومت سازی کی دعوت دینے میں تاخیر پر سیاسی جماعتوں کے نشانے پر آئے گورنر وی آر آرلیکر اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر وجے کو اسمبلی میں اکثریت کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
جمعرات کے رزو ٹی وی کے حامیوں کو اس وقت مایوسی ہوئی جب گورنر نے مسٹر وجے پر واضح کیا کہ حکومت سازی کی دعوت دینے کے لیے اکثریت کی حمایت ایک لازمی شرط ہے۔ ٹی وی کے سربراہ کی جانب سے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے کے ایک دن بعد، گورنر آرلیکر نے انہیں راج بھون بلا کر اپنا یہ پیغام پہنچایا۔
راج بھون کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’’معزز گورنر نے واضح کیا ہے کہ تمل ناڈو اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت کی حمایت ابھی تک ثابت نہیں ہوئی ہے۔‘‘
اقتدار سے باہر ہونے والی ‘ڈی ایم کے’ کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے اور ‘اے آئی اے ڈی ایم کے’ کی جانب سے بھی دعویٰ پیش نہ کیے جانے کے باوجود، گورنر کے اس فیصلے پر سیاسی جماعتوں اور تجزیہ نگاروں نے سخت تنقید کی ہے۔
وی سی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ تھول تھرومولون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ “بی جے پی اس حقیقت کو ہضم نہیں کر پا رہی کہ کانگریس، مسٹر وجے کے ساتھ مل کر اقتدار میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ اسی لیے وہ گورنر کے دفتر کا استعمال کر کے ٹی وی کے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر وجے نے کانگریس کا ساتھ چھوڑنے کا بی جے پی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
دونوں کمیونسٹ پارٹیوں (سی پی آئی ایم اور سی پی آئی) نے بھی گورنر کی مذمت کی ہے۔ ماکپا کے ریاستی سکریٹری پی شنموگم اور بھاکپا کے ایم ویرپانڈین نے کہا کہ اکثریت کا امتحان راج بھون میں نہیں بلکہ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔
ناقدین کا دعویٰ ہے کہ راج بھون مرکز کی بی جے پی حکومت کے اشاروں پر کام کر رہا ہے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کی جا رہی ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست میں اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ مسٹر وجے اکثریت ثابت کرنے کے لیے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔
